اسلام آباد پولیس نے تھانہ نون کی حدود میں 3 سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کرکے لاش چھپانے کے الزام میں ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق ملزم رشتے میں بچی کا بہنوئی لگتا ہے۔ بچی کے لاپتا ہونے کی اطلاع ملنے پر تھانہ نون پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کیا۔
واقعے کی تفتیش کے لیے ڈی آئی جی اسلام آباد علی وسیم نے ایس پی انڈسٹریل زون ڈاکٹر ایاز حسین کی سربراہی میں پولیس ٹیمیں تشکیل دیں۔ پولیس کے مطابق بچی کی تلاش اور ملزم کی گرفتاری کے لیے 7 ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں، جبکہ تمام زونز کے ایس ایچ اوز نے سرچ آپریشن میں حصہ لیا۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹیموں نے سی سی ٹی وی فوٹیج، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی ذرائع کی مدد سے دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں مشتبہ ملزم کو گرفتار کیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر 3 سالہ بچی کی لاش برآمد کرلی گئی، جسے مزید قانونی کارروائی کے لیے پمز ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی اسلام آباد کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقدمے میں ملوث ملزم کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ساحل‘ کے مطابق 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران پاکستان میں بچوں سے بدسلوکی یا استحصال کے 1,914 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں 1,015 جنسی استحصال، 558 اغوا، 101 بچوں کے لاپتا ہونے، 35 کم عمری کی شادی اور 98 جنسی استحصال کے بعد فحش مواد سے متعلق واقعات شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق متاثرین میں 58 فیصد لڑکیاں اور 42 فیصد لڑکے تھے۔ 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جن کی تعداد 598 رہی۔ اس کے علاوہ 16 سے 18 سال کی عمر کے 356، 6 سے 10 سال کے 329 اور 5 سال تک کی عمر کے 95 بچے متاثرین میں شامل تھے، جبکہ 487 واقعات میں عمر کا ذکر نہیں کیا گیا۔
تنظیم کے مطابق مبینہ ملزمان میں 43 فیصد متاثرین کے رشتہ دار، 34 فیصد اجنبی تھے، جبکہ 13 فیصد واقعات میں ملزم کے تعلق یا حیثیت کی وضاحت نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 45 فیصد واقعات متاثرین کے گھروں میں پیش آئے، جبکہ 18 فیصد مبینہ ملزمان کے گھروں میں رپورٹ ہوئے۔ 3 فیصد واقعات کھلے مقامات پر پیش آئے جبکہ 21 فیصد واقعات میں مقام کی وضاحت نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رپورٹ ہونے والے واقعات میں 57 فیصد شہری اور 43 فیصد دیہی علاقوں سے متعلق تھے۔







