خیبر پختونخوا حکومت نے دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک کے اضلاع کی حدود اور ملحقہ متاثرہ علاقوں میں غیر مجاز کان کنی اور پلیسر گولڈ (دریائی سونے) کی غیر قانونی کھدائی و نکاسی پر عائد پابندی میں مزید توسیع کردی ہے۔محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت جاری کردہ حکم نامے کے مطابق مذکورہ پابندی میں 19 اگست 2026 سے 60 روز کے لیے توسیع کی گئی ہے۔حکم نامے کے مطابق متعلقہ محکموں، ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں سے موصول ہونے والی رپورٹس میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر پلیسر گولڈ کی غیر مجاز کھدائی اور نکاسی کی کوششوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ محکمہ معدنی ترقی نے بھی عوامی مفاد میں پابندی میں مزید توسیع کی درخواست کی تھی۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ غیر منظم اور غیر قانونی کان کنی سے دریائی کناروں کو شدید نقصان پہنچنے، آبی وسائل کے آلودہ ہونے، مقامی ماحول اور قدرتی منظرنامے کو نقصان پہنچنے کے علاوہ صحتِ عامہ اور عوامی سلامتی کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔حکم نامے میں مزید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایسی سرگرمیوں کے نتیجے میں امن و امان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، جن میں مقامی گروہوں کے درمیان تنازعات، کان کنی کے مواد کی غیر قانونی نقل و حمل، کھدائی کی مشینری کے لیے ایندھن کی اسمگلنگ اور امن و سکون کو متاثر کرنے والی دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔حکم نامے کے مطابق غیر قانونی کان کنی میں ملوث بعض عناصر منظم انداز میں سرگرم ہیں، ان کے پاس خاطر خواہ مالی وسائل موجود ہیں اور وہ کارروائی کے دوران مزاحمت بھی کرسکتے ہیں، جس سے عام شہریوں، انتظامیہ اور پولیس اہلکاروں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔صوبائی کابینہ نے محکمہ معدنی ترقی کو ہدایت کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے تعاون سے مربوط کارروائی کی قیادت کرے، جبکہ ضرورت پڑنے پر اضافی نفری بھی تعینات کی جاسکتی ہے۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو حکم نامے پر عمل درآمد کے لیے تمام قانونی اقدامات اٹھانے کا اختیار دیا گیا ہے، جس میں پابندی کی خلاف ورزی میں استعمال ہونے والی مشینری، گاڑیوں، آلات، اوزار، سامان اور دیگر مواد کو قبضے میں لینا اور ضبط کرنا بھی شامل ہے۔حکم نامے کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔یہ حکم نامہ اکرام اللہ خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، محکمہ داخلہ و قبائلی امور، حکومت خیبر پختونخوا نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے جاری کیا ہے۔







