پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان ،اولمپئن خالد محمود انتقال کرگئے

لندن ،رپورٹ: سید عاصم علی قادری

پاکستان ہاکی کے عظیم اولمپئن، 1971 کے پہلے ہاکی ورلڈ کپ کے فاتح کپتان خالد محمود 10 ستمبر 2026 کو انتقال کرگئے، خالد محمود کا پورا نام حسین خالد محمود تھا اور وہ 28 دسمبر 1941 کو جہلم میں پیدا ہوئے ۔ ان کی عمر تقریبا ً84 سال تھی۔ خالد محمود پاکستان ہاکی کے ان چند عظیم کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف اولمپک گولڈ میڈل جیتا بلکہ پاکستان کو تاریخ کا پہلا ہاکی ورلڈ کپ بھی بطور کپتان جتوایا۔ انہوں نے 1964 کے ٹوکیو اولمپکس میں چاندی کا تمغہ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کی، جبکہ 1968 کے میکسیکو اولمپکس میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سونے کا تمغہ حاصل کیا اور خالد محمود اس تاریخی کامیابی کا بھی حصہ تھے۔ ان کے شاندار کھیل کے سفر کا سب سے بڑا اعزاز 1971 میں اسپین کے شہر بارسلونا میں منعقد ہونے والا پہلا ہاکی ورلڈ کپ تھا، جہاں خالد محمود نے پاکستانی ٹیم کی قیادت کی اور پاکستان نے فائنل میں میزبان اسپین کو شکست دے کر پہلی مرتبہ ہاکی کا عالمی کپ اپنے نام کیا۔ اس تاریخی کامیابی کے بعد خالد محمود پاکستان ہاکی کی تاریخ میں پہلے ہاکی ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کے طور پر ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔

۔ خالد محمود نے پاکستان کی جانب سے مجموعی طور پر 130 بین الاقوامی میچز کھیلے اور 19 گول اسکور کیے، جبکہ قومی ٹیم کے لیے ان کا بین الاقوامی ڈیبیو 1963 میں ہوا۔ وہ 1964 اور 1968 کے اولمپکس کے علاوہ ایشین گیمز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے۔ 1966 کے ایشین گیمز میں پاکستان نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا جبکہ 1970 کے ایشین گیمز میں پاکستانی ٹیم نے سونے کا تمغہ جیتا اور خالد محمود دونوں کامیاب ادوار کا حصہ تھے۔ ان کے شاندار کھیل کے نتیجے میں انہیں 1968 میں حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی، پرائیڈ آف پرفارمنس، سے بھی نوازا گیا۔ خالد محمود کا پیشہ ورانہ تعلق پاکستان کسٹمز، کراچی سے تھا ۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی خالد محمود نے پاکستان ہاکی سے اپنا تعلق ختم نہیں کیا بلکہ مختلف حیثیتوں میں قومی کھیل کی خدمت جاری رکھی۔ مینیجر کی حیثیت سے بھی انہوں نے قومی ٹیم کے ساتھ اہم ذمہ داریاں انجام دیں اور پاکستان کی کامیابیوں میں کردار ادا کیا، جن میں 1980 کی چیمپئنز ٹرافی اور 1982 کے ایشین گیمز کے گولڈ میڈلز شامل ہیں۔ بعد کے برسوں میں وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے چیف سلیکٹر بھی رہے اور قومی ٹیم کے انتخاب اور انتظامی معاملات میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ 1964 کا اولمپک سلور میڈل، 1968 کا اولمپک گولڈ میڈل، 1966 کا ایشین گیمز سلور میڈل، 1970 کا ایشین گیمز گولڈ میڈل اور سب سے بڑھ کر 1971 کے پہلے ہاکی ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کی قیادت ان کے شاندار کیریئر کی وہ تاریخی کامیابیاں ہیں جنہیں پاکستانی کھیلوں کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed