ایشیا پیسیفک میڈیا پارٹنرشپ ٹریننگ پراجیکٹ 2026 کا باقاعدہ آغاز آج یہاں مرکری ہوٹل شینزن میں ہوگیا جس میں ایشیا پیسیفک خطے کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز نے شرکت کی۔

ٹریننگ پراجیکٹ خطے کے صحافیوں کو ایک ایسا اہم پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے جہاں وہ اپنے تجربات اور خیالات کا تبادلہ کرنے کے ساتھ ساتھ صحافت، ٹیکنالوجی اور عالمی ابلاغ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھنے اور پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دینے کے مواقع حاصل کر رہے ہیں۔
پراجیکٹ کے دوران پروفیسر ژِن یو (Prof. Xin Yu) نے تہذیبوں کا تبادلہ، باہمی سیکھنے اور ایشیا پیسیفک کمیونیکیشنز بیانیہ کے موضوع پر جامع لیکچر دیا۔ انہوں نے تہذیبوں کے درمیان مکالمے، باہمی احترام اور ایک دوسرے سے سیکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا عوام اور معاشروں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ ایسے ابلاغی بیانیے تشکیل دیں جو امن، دوستی، باہمی سمجھ بوجھ اور مشترکہ ترقی کو فروغ دیں۔شینزن اسکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشنز کی پروفیسر ژانگ ژِنگ (Prof. Zhang Xing) نے ٹیکنالوجیکل انوویشن، عالمی بین الاقوامی ابلاغ اور چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے پبلک ریلیشنز کے طریقہ کار کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی نے عالمی ابلاغ کے انداز کو تبدیل کر دیا ہے اور چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں جدید کمیونیکیشن اور پبلک ریلیشنز حکمت عملی کے ذریعے عالمی سطح پر اپنے پیغامات اور کامیابیوں کو مئوثر انداز میں پیش کر رہی ہیں۔تیسرے مقرر ڈاکٹر سونگ یِن لیو (Dr. Songyin Liu) نے اے آئی جی سی (AIGC) کے ذریعے متنوع کرداروں اور ابلاغی ذرائع کو بااختیار بنانے کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والے مواد کے بڑھتے ہوئے کردار اور اس کے نتیجے میں صحافت، میڈیا پروڈکشن اور عالمی ابلاغ میں آنے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی۔

مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی کے موجودہ دور میں ذمہ دارانہ صحافت، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج میڈیا کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔ایشیا پیسیفک کے مختلف ممالک سے شریک صحافیوں نے لیکچرز میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا اور صحافت، ٹیکنالوجی، عالمی ابلاغ اور میڈیا کے مستقبل کے حوالے سے اپنے تجربات اور خیالات بھی پیش کیے۔ایشیا پیسیفک میڈیا پارٹنرشپ ٹریننگ پراجیکٹ کو خطے کے میڈیا اداروں اور صحافیوں کے درمیان رابطوں کے فروغ، پیشہ ورانہ تعاون، باہمی افہام و تفہیم اور مشترکہ خوشحالی کے لیے میڈیا کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔








