پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کی سرکاری رہائشگاہ ڈی سیل کرنے کے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری ایڈمنسٹریشن کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل بینچ نے درخواست پر سماعت کی، عدالت نے استفسار کیا کہ جب رہائشگاہ ڈی سیل کرنے کا حکم جاری کیا جاچکا ہے تو اب تک اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا؟ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ درخواست پہلے سے جاری عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے دائر کی گئی ہے۔وکیل کے مطابق پاورز، ایمیونٹیز اینڈ پریولیجز بل کے تحت سپیکر کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی، انہوں نے مقف اختیار کیا کہ عدالت پہلے ہی ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کی سرکاری رہائش گاہ ڈی سیل کرنے کا حکم دے چکی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔درخواست گزار کے وکیل نے مزید بتایا کہ ثریا بی بی نہ اپنے گھر جاسکتی ہیں اور نہ ہی ان کے بچے گھر سے باہر نکل سکتے ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب عدالت نے گھر ڈی سیل کرنے کا حکم دیا تھا تو اس پر عمل ہونا چاہیے تھا، اس کا مطلب ہے کہ متعلقہ حکام عدالتی احکامات کی تعمیل نہیں کر رہے۔جسٹس اعجاز انور نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنی ڈپٹی سپیکر کو گھر سے نکال دیا اور اب مزید وقت مانگ رہے ہیں، سماعت کے دوران محکمہ ایڈمنسٹریشن کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ عملہ نیا آیا ہے اور نظام دوبارہ شروع کرنے میں کچھ وقت لگ رہا ہے۔اس موقع پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے مزید مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام رپورٹ جمع کرائیں گے، انہوں نے بتایا کہ اس کیس میں ایڈووکیٹ جنرل کو خود پیش ہونا تھا، تاہم وہ مصروفیت کے باعث عدالت میں حاضر نہیں ہوسکے۔یاد رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کی سرکاری رہائشگاہ ڈی سیل کرنے کے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔







