پشاور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماں کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی۔ کیس کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ولی محمد خان نے کی، جس میں کامران بنگش سمیت دیگر ملزمان اور ان کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ تمام ملزمان کے ضمنی چالان جمع کرا دیے گئے ہیں، اس موقع پر جج نے استفسار کیا کہ 9 مئی کے مقدمے میں نامزد عامر چمکنی کا ضمنی چالان کہاں ہے؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ عامر چمکنی گزشتہ شب گرفتار ہو چکے ہیں۔سماعت کے دوران عامر چمکنی کے ضمنی چالان سے متعلق سوال پر وکیل نے ان کی گزشتہ شب گرفتاری سے عدالت کو آگاہ کیا۔ تفتیشی افسر کی جانب سے تمام ملزمان کے ضمنی چالان جمع کرانے کا بتایا گیا، تاہم عامر چمکنی کے حوالے سے جج نے الگ سے استفسار کیا۔یاد رہے کہ اس مقدمے میں سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا، عرفان سلیم اور عامر چمکنی کے نام ضمنی چالان میں شامل کیے جانے کی اطلاعات پہلے بھی سامنے آ چکی ہیں۔دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سہیل آفریدی کا ایک مقدمہ پشاور ہائی کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں کیس کی تفصیلات پڑھنے کے لیے وقت دیا جائے۔وکیل کے مطابق 9 مئی کے تمام مقدمات کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم موجودہ مقدمہ اس درخواست میں ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے سہیل آفریدی کی عدم دستیابی سے متعلق بھی مقف پیش کیا۔سماعت کے دوران جج نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا وہ اس مقدمے میں دلائل دینا چاہتے ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ فی الحال وہ دلائل نہیں دینا چاہتے۔بعد ازاں ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی کی پیشی تک سماعت ملتوی کر دی گئی۔ یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں کامران بنگش، تیمور سلیم جھگڑا اور عرفان سلیم کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔







