8 ہزار ارب ڈالر سونا تانبے کی تلاش کے لیے مراعاتی پیکج تیار کر لی ہے خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کے لیے مراعاتی پیکج 12 نومبر کو شروع ہونے والے منرل فارم میں پیش کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق صوبے میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کے لیے مراعاتی پیکج کے تحت مقامی اور درآمدی سپلائیز ہر جی ایس ٹی 30 سال کے لیے استثنا اور ایک تجویز پیداوار شروع ہونے کے بعد بھی برقرار رکھنے ہے وجہ منرلز کا برامد ہونا ہے دیگر تجاویز میں کنٹریکٹر ۔سپلائیز ۔پر قابل اطلاق دو ہولڈنگ ٹیکسز کمرشل پیداوار شروع ہونے تک موخر ۔کارپوریٹ انکم ٹیکس کی جگہ برامدی امدنی پر ایک فیصد پر نیز منٹو ٹیکس اور 0.5 فیصد ڈویلپمنٹ سر چارج۔سپر ٹیکس سے 30 سال کے لیے مستثنی ۔مائننگ منصوبوں کی منافع کی تقسیم پر 15 سال کے لیے دوہرے ہولڈنگ ٹیکس سے مستثنی ۔مائننگ منصوبوں میں نقصانات مستقل طور پر ائندہ سالوں پر منتقل کرنے ایک مائننگ گروپ کے ناکام منصوبوں کے مالی نقصانات کامیاب منصوبوں میں ایڈجسٹ کرنے اور فرسودہ گی کی مدت 10 سال اور تیز فرد سودگی 100 فیصد تک کرنے کی تجویز ہے ذرائع کے مطابق حکومت نے کمرشل پیداوار شروع ہونے کی مدت تک مائننگ مشینری اور حالات پر امپورٹ ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دی ہے مائننگ معاہدے میں ائل اینڈ سیکٹر کے مطابق متناسب مالیاتی استحکام کی شک شامل کرنے کی بھی تجویز ہے جو مائننگ کے کہیں سال طویل ہونے کی صورت میں اہم ثابت ہو سکتا ہے ایک تجویز مائننگ منصوبوں کا مالیہ کی پیکج ائل اینڈ گیس سیکٹر کی لیے انکم ٹیکس ارڈیننس کے پانچویں شیڈول کے مطابق بنانے بھی ہے قومی منرل پالیسی 2026 تیار کر لی گئی ہے جس میں 80 کھرب ڈالر کی سونے کی اور تانبے کے ذخائر کے تلاش کے لیے مراتی پیکجز شامل ہے جو کہ فائنانس ڈیپارٹمنٹ نے حالیہ بجٹ سیشن کے دوران پیش کیے تھے خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کے لیے اہم منصوبہ ہے







