پاکستان کا علاقائی تجارتی خسارہ 26.6 فیصد بڑھ کر 4.97 ارب ڈالر ہو گیا


ضیاء الحق سرحدی(ستارہ امتیاز ) پشاور

پاکستان کی معاشی ترقی، برآمدات میں اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے علاقائی تجارت کا فروغ دینا بنیادی اہمیت رکھتا ہے، لیکن حالیہ تجارتی اعداد و شمار ایک ایسی صورتحال کی نشاندہی کر رہے ہیں، جس پر حکومت، پالیسی سازوں اور معاشی ماہرین کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق خطے کے ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 26.6 فیصد اضافے کے ساتھ تقربیا 4 ارب 97کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت، یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران یہ خسارہ 3 ارب 93کروڑ ڈالر تھا۔ محض ایک سال میں تجارتی خسارے میں اس قدر اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو علاقائی منڈیوں میں اپنی برآمدی صلاحیت بہتر بنانے، تجارتی روابط مستحکم کرنے اور معاشی سفارت کاری کو مؤثربنانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ تجارتی خسارے میں اضافے کا تعلق درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق کے طور پر دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کے پسِ منظر میں موجود معاشی، سفارتی اور جغرافیائی عوامل کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں اسے جغرافیائی وسعت، سستی لیبر، اور سنگاپور کی منڈیوں تک رسائی کے قدرتی مواقع حاصل ہیں۔ اس کے باوجود اگر علاقائی ممالک کے ساتھ تجارت میں توازن مسلسل بگڑ رہا ہے تو یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ موجودہ تجارتی حکمتِ عملی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔ کسی بھی ملک کی جغرافیائی اہمیت اسی وقت حقیقی معاشی قوت میں تبدیل ہوتی ہے جب وہ اپنے کل برآمدی تجارتی سرگرمیوں، صنعتی پیداوار، برآمدات اور علاقائی رابطوں کے فروغ کے لیے استدلال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ حالیہ اعداد و شمار میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو پاکستان کی برآمدات میں ہونے والی کمی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں علاقائی ممالک کو پاکستانی برآمدات 944 ملین ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ ایک ارب دس ملین ڈالر تھیں۔ یہ برآمدات میں کمی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے دبا، درآمدی ضروریات اور زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام اور معاشی بحالی جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ برآمدات کی کمی معیشت کے لیے بیرونی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہیں، ان میں کمی سے نہ صرف تجارتی خسارہ بڑھتا ہے بلکہ ملکی معیشت کی پیداواری صلاحیت، روزگار کے مواقع اور معاشی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے علاقائی تجارت کے حوالے سے حکومتی پالیسی کا بنیادی مقصد محض برآمدات کو محدود کرنا نہیں، بلکہ پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیوں تلاش کرنا اور موجودہ منڈیوں میں ان کا حصہ بڑھانا ہونا چاہیے۔ پاکستان کے علاقائی تجارتی مسائل کا ایک اہم سبب پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں پائے جانے والے اتار چڑھا ہیں۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی بندشوں اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کے باعث، پاکستان کی برآمدات میں 68 فیصد سے زائد کی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ سیاسی اور سلامتی سے متعلق تنازعات معاشی اقدامات کس قدر دور رس ہو سکتے ہیں۔ افغانستان پاکستان کے لیے صرف ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم راستہ بھی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی قربت، تاریخی روابط اور تجارتی ضرورتیں ایک ایسا پلیٹ فارم کرتے ہیں جس سے فائدہ اٹھا کر باہمی تجارت کو وسعت دی جا سکتی ہے۔ تاہم اب سرحدی گزرگاہیں بند ہوتی ہیں، یا تجارتی آمد و رفت غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہو جاتی ہے تو اس کا نقصان دونوں طرف کے تاجروں، صنعت کاروں، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور عام صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed