قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان پوسٹ آفس میں ہونے والی مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور سنگین مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کو باضابطہ طور پر طلب کر لیا ہے۔ نیب راولپنڈی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق اسعد محمود کو 10 نومبر 2026ء کو صبح 11 بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقعف پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ عدم پیشی کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 31 کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
اسعد محمود 19 اپریل 2022ء سے 10 اگست 2023ء تک شہباز شریف کی اتحادی حکومت میں وفاقی وزیر مواصلات رہے، اور پاکستان پوسٹ آفس انہی کے انتظامی دائرہ کار میں شامل تھا۔ نیب تحقیقات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 3 ہزار 938 آسامیوں پر بھرتی کی منظوری دی تھی، تاہم قواعد و ضوابط کو ہوا میں اڑاتے ہوئے 4 ہزار 252 افراد کو تعينات کیا گیا۔ اس کے علاوہ کابینہ کمیٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 2 ہزار 646 ختم شدہ آسامیوں پر بھی بھرتیاں کی گئیں۔ تحقیقات میں ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے کنٹریکٹ پر اُمیدوار منتخب کرنے کی سفارش کے برعکس مستقل تقرریاں کرنے، جعلی دستاویزات، زائد العمر افراد کی بھرتی اور سیاسی وابستگیوں سمیت ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزی کے الزامات بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بھی انکوائری نمبر 197/2026 کے تحت اسی معاملے پر اسعد محمود کو 2 نومبر کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر رکھا تھا۔ نیب اور ایف آئی اے کی جانب سے ایک ہی وقت میں الگ الگ تحقیقات سے سابق وفاقی وزیر کے لیے قانونی مشکلات میں اضافے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ یہ قانونی اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب مولانا فضل الرحمان کی وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، جبکہ حال ہی میں سی ڈی اے اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ان سے منسلک جائدادوں کو تجاوزات کے نوٹسز بھی جاری کیے گئے ہیں۔







