امریکی وسط مدتی انتخابات میں کروڑوں ڈالرز کی سٹے بازی

امریکا میں کھیلوں کے بعد اب سیاست بھی سٹے بازی کا ایک بڑا مرکز بن چکی ہے، جہاں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس، سینیٹ اور مختلف ریاستوں کے گورنروں کے مقابلوں پر کروڑوں ڈالرز کی رقم داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ امریکی انتخابی پیشگوئی کے پلیٹ فارم ‘کیلشی’ کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 30 دنوں میں مختلف انتخابی منڈیوں میں 45 کروڑ 42 لاکھ ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری اور شرطیں لگائی جا چکی ہیں، جبکہ 31 اکتوبر کو صرف ایک ہی دن میں 3 کروڑ 83 لاکھ ڈالرز کے داؤ کھیلے گئے۔

امریکی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی 435، سینیٹ کی 35 اور 36 ریاستوں میں گورنروں کی نشستوں پر پولنگ ہونی ہے۔ ایوانِ نمائندگان کے کنٹرول کے حوالے سے منڈی میں 17 کروڑ 76 لاکھ ڈالرز داؤ پر لگے ہیں، جہاں ڈیموکریٹس کی کامیابی کا امکان 93 فیصد اور ری پبلکنز کا 7 فیصد دکھایا جا رہا ہے۔ سینیٹ کے مجموعی کنٹرول کے مقابلے میں 13 کروڑ 39 لاکھ ڈالرز کا سٹہ لگا ہے جس میں ڈیموکریٹس کا غلبہ رہنے کا امکان 72 فیصد ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ رقوم ٹیکساس کی سینیٹ کی نشست پر لگی ہیں، جہاں ڈیموکریٹ جیمز ٹیلاریکو اور ری پبلکن کین پیکسٹن کے مقابلے پر 6 کروڑ 85 لاکھ ڈالرز کا داؤ لگا ہے۔ اسی طرح ٹیکساس، اوہائیو، مین، اور مشی گن سمیت مختلف ریاستوں میں سینیٹ اور گورنروں کے مقابلوں پر بھی سنگین نوعیت کی شرطیں لگی ہوئی ہیں۔

کیلشی پر یہ شرطیں ‘ہاں’ یا ‘نہ’ کے معاہدوں کی شکل میں خریدی جاتی ہیں۔ مثلاً اگر کوئی 70 سینٹ میں معاہدہ خریدتا ہے اور امیدوار جیت جاتا ہے تو اس کی قیمت 1 ڈالر ہو جاتی ہے، جبکہ ہارنے پر پوری رقم ضائع ہو جاتی ہے۔ تاثرات اور سرویز کے ساتھ ان معاہدوں کی قیمتیں مسلسل بدلتی رہتی ہیں۔ کیلشی اگرچہ کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کی زیرِ نگرانی کام کرتا ہے اور اسے قانونی مالیاتی معاہدہ قرار دیتا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے سیاسی و جمہوری عمل کو مالی منافع کے کھیل میں تبدیل کرنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed