ٹرمپ ایران پر جوہری حملے پر غور کر سکتے ہیں: ٹکر کارلسن

معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دباؤ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مڈ ٹرم انتخابات کے فوراً بعد ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کارلسن نے کہا کہ نیتن یاہو ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی کے لیے ٹرمپ انتظامیہ میں موجود اپنے قریبی حامیوں پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔

کارلسن کے مطابق اس ممکنہ حملے کا ہدف وسطی ایران میں واقع ‘پِک ایکس ماؤنٹین’ کا علاقہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پہاڑ کے اندر بنی سرنگوں تک رسائی کے لیے امریکی روایتی ہتھیار ناکافی ہو سکتے ہیں، اسی لیے جوہری حملے کا آپشن زیرِ غور آ سکتا ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کا دعویٰ ہے کہ ایران نے اسی مقام پر اپنا جوہری افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کیا ہے۔

امریکی تجزیہ کار نے مزید بتایا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم اس وقت شدید سیاسی مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں نئی حکومت بنانے کے لیے 61 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ اس مقصد میں ناکامی پر نیتن یاہو کو وزارتِ عظمیٰ کے خاتمے، تحقیقات اور ممکنہ قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اسی لیے وہ صدر ٹرمپ کے قریب رہ کر ایران کے خلاف کشیدگی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

ٹکر کارلسن نے یہ انکشاف بھی کیا کہ نیتن یاہو نے ایران پر ممکنہ حملے کے لیے متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن امارات نے اس سے انکار کر دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر جوہری حملے سے خلیجِ فارس کا پانی آلودہ ہو سکتا ہے اور عالمی سطح پر ایٹمی جنگ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے حامی ہیں اور وہ صدر ٹرمپ کو مذاکرات پر مائل کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر دیا ہے اور صرف ایک یا دو مقامات باقی ہیں جن سے نمٹنے میں محض دس منٹ کا وقت لگے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed