انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملے کے مقدمے میں نامزد پی ٹی آئی رہنما عرفان سلیم کی عبوری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 4 نومبر تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔درخواست پر سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ولی محمد نے کی۔عدالت نے عرفان سلیم کو 4 نومبر تک عبوری ضمانت دیتے ہوئے پولیس سے آئندہ سماعت پر مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔پراسیکیوشن کے مطابق عرفان سلیم کو ریڈیو پاکستان کی درخواست پر 9 مئی 2023 کے حملے سے متعلق مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ اس کیس میں وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش سمیت دیگر افراد بھی نامزد ہیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ 9مئی 2023کو مشتعل مظاہرین نے ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملہ کیا، عمارت کو آگ لگائی اور املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔پراسیکیوشن کے مطابق ابتدائی طور پر پولیس نے اس مقدمے میں 80 ملزمان کو نامزد کیا تھا، تاہم بعد ازاں ریڈیو پاکستان کی درخواست پر مزید پانچ افراد کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا، جن میں عرفان سلیم بھی شامل ہیں۔عدالت نے پولیس کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے عرفان سلیم کو اس وقت تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ مقدمے کی مزید سماعت 4 نومبر کو ہوگی۔







