پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI)کے کو آرڈینیٹر ضیا ء ا لحق سر حد ی(ستارہ امتیاز) نے پریس میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہوں پر ایران کے تقریباً 18 ہزار تجارتی کنٹینرز کئی ماہ سے پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ بھاری اسٹوریج چارجز، تاخیر کے جرمانوں اور نقل و حمل کے اخراجات نے ایرانی تاجروں کے لیے اپنا سامان واپس حاصل کرنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔انہوں نے کہ کہ بعض کنٹینرز کو بندرگاہوں سے کلیئر کرانے اور ایران منتقل کرنے کی مجموعی لاگت 25 ہزار ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ کنٹینرز میں موجود سامان کی مجموعی مالیت صرف 20 سے 30 ہزار ڈالر ہے، جس کا مطلب ہے کہ بعض تاجروں کو اپنا سامان واپس حاصل کرنے کے لیے تقریباً اس کی اصل قیمت کے برابر رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے یہ بحران مارچ 2026 ء میں جنگ کے باعث سمندری نقل و حمل پر عائد پابندیوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ متعدد ایرانی تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل ہونے کے نتیجے میں ان کا سامان پاکستانی بندرگاہوں پر اتار دیا گیا، لیکن مالی اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث اسے ایران منتقل نہیں کیا جا سکا۔انہوں نے کہاکہ ایرانی حکام کے مطابق کنٹینرز کی کلیئرنس میں تاخیر کی اہم وجوہات میں ثالثی کمپنیوں کے نام پر جاری کردہ شپنگ دستاویزات، بین الاقوامی پابندیوں کا خوف اور غیر معمولی اخراجات شامل ہیںاور تشویشناک بات یہ ہے کہ 18 ہزار کنٹینرز میں سے صرف تقریباً ایک ہزار کے مالکان نے اب تک کلیئرنس کا عمل شروع کیا ہے۔ باقی ہزاروں کنٹینرز کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے جبکہ تہران چیمبر آف کامرس کے ٹرانسپورٹ کمیشن کے سربراہ پیمان سنندجی نے بتایا کہ ایرانی وزارت خارجہ اور پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کے تعاون سے مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیںان کے مطابق سامان کے مالکان کی ایک نئی فہرست پاکستانی حکام کو فراہم کی جائے گی، جس میں ایران اور دیگر ممالک کے لیے جانے والی تجارتی کھیپوں کی الگ الگ نشاندہی کی جائے گی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ بعض ایسی کمپنیاں، جنہیں پاکستانی حکام کی منظوری حاصل نہیں تھی، ایرانی تاجروں سے بھاری رقوم وصول کر چکی ہیں، لیکن کنٹینرز کی کلیئرنس کے لیے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی اور ابھی تک بین الاقوامی لاجسٹکس کمپنی کے اخراجات میں 80 فیصد رعایت دینے کے حوالے سے پہلے ہونے والے مذاکرات کے باوجود اس فیصلے پر اب تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ایرانی نجی شعبے نے بحران کے حل کے لیے تجویز پیش کی ہے کہ پاکستانی بندرگاہوں پر موجود سامان کو 300 سے 400 کنٹینرز لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے چھوٹے بحری جہازوں کے ذریعے ایران کی چابہار بندرگاہ منتقل کیا جائے تاہم اس منصوبے پر بھی ابھی عمل درآمد شروع نہیں ہو سکا، کیونکہ اس کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ رابطہ کاری اور نقل و حمل کے اخراجات پر باہمی اتفاق ضروری ہے۔ضیاء الحق سرحدی جو کہ سرحدچیمبرآف کا مرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر بھی ہیں نے بتایا کہ تجارتی حلقوں کے مطابق مسلسل تاخیر سے ایرانی درآمد کنندگان پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ کنٹینرز کی کلیئرنس میں مزید رکاوٹیں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی نقل و حمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔اس اقدام سے پاکستانی بندرگاہوں پر ہزاروں ایرانی کنٹینرز کا پھنسے رہنا خطے میں تجارتی راستوں کی مشکلات اور جنگ سے پیدا ہونے والی معاشی رکاوٹوںمیں مزید اضافہ ہوگاجس سے دونوں ملکوں کے کاروباری افراد کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوگا۔







