پشاور’12سالہ بچی سے زیادتی کے ملزم ڈاکٹر کو عمر قید

پشاور ہائیکورٹ نے 12 سالہ بچی سے جنسی زیادتی کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے ڈاکٹر کی بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنا دی۔عدالت نے خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ کے تحت بھی ملزم کو 7 سال قید بامشقت اور جرمانے کی سزا سنائی۔جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے متاثرہ بچی کی اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو بری کرتے وقت متعدد قانونی نکات اور اہم حقائق کو نظرانداز کیا۔عدالت نے ملزم کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت عمر قید اور جرمانے جبکہ خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ کی دفعہ 53 کے تحت 7 سال قید بامشقت اور جرمانے کی سزا سنائی۔مقدمے کے مطابق ملزم کے خلاف 14 فروری 2023 کو تھانہ حیات آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔متاثرہ بچی اپنے والد کے ہمراہ تھانے پہنچی اور واقعے کی شکایت درج کرائی تھی۔ چائلڈ پروٹیکشن کورٹ نے 11 نومبر 2025 کو ملزم کو بری کردیا تھا، جس کے خلاف متاثرہ بچی نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔مقدمے کی کارروائی کے دوران متاثرہ بچی اور اس کے والد نے امریکہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے بیانات قلمبند کرائے۔ دونوں امریکی شہری بھی ہیں اور واقعے کے بعد امریکہ منتقل ہوگئے تھے۔متاثرہ بچی نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا تھا کہ واقعے کے وقت اس کے والدین اور بہن کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر گئے ہوئے تھے، جبکہ اس کا بھائی گھر کے مہمان خانے میں سو رہا تھا۔ بچی کے مطابق وہ لانج میں موجود تھی کہ ملزم وہاں آیا اور اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔مقدمے کی تفصیلات کے مطابق واقعے کے بعد ملزم کی اہلیہ نے بھی اس سے طلاق لے لی تھی۔پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرائل کورٹ کی جانب سے ڈاکٹر کی بریت ختم ہوگئی ہے اور ملزم کو مذکورہ دفعات کے تحت قید اور جرمانے کی سزائیں سنا دی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed