پشاور میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے خلاف شہریوں نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے درخواستیں دائر کردی ہیں۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ رنگ روڈ پر جاری آپریشن کے نتیجے میں ان کی ذاتی املاک کو بغیر پیشگی نوٹس مسمار کیے جانے کا خدشہ ہے۔درخواستیں امیر الرحمان وغیرہ کی جانب سے ایڈووکیٹ عثمان عالم کے توسط سے دائر کی گئی ہیں، جن میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے)، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزاروں کے مطابق رنگ روڈ پر تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن سے ان کی املاک متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور حکام کی جانب سے بغیر نوٹس دیے جائیدادیں مسمار کیے جانے کا امکان ہے۔درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے 52 فٹ کا جو فارمولا اپنایا جا رہا ہے، اس کے حوالے سے کوئی قانونی دستاویز یا باضابطہ اعلامیہ موجود نہیں۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ان کی املاک ذاتی ملکیت ہیں اور وہ ان کے عوض سرکاری محکموں کو ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں۔درخواست گزاروں نے مؤقف اپنایا ہے کہ بغیر پیشگی نوٹس املاک مسمار کرنا انکروچمنٹ ایکٹ اور دیگر متعلقہ قوانین سمیت بنیادی قانونی حقوق کے منافی ہے۔درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو درخواست گزاروں کی املاک مسمار کرنے سے روکا جائے۔







