جماعت اسلامی پاکستان کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نے لانگ مارچ کے دوران بڑے بڑے دعوے کیے، مذاکرات بھی ہوئے، ایمرجنسی اور گورنر راج بھی نافذ ہوا، لیکن تمام تر عوامی مینڈیٹ اور بلند بانگ دعوں کے باوجود خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے خلاف عوامی احتجاج نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ احتجاج نہ ہونے سے غیر مقبول اقدامات کو تقویت ملی ہے۔ پی ٹی آئی اپنی حکومت کے خاتمے کے خلاف بھی عوامی سطح پر باہر نہیں نکلی۔ صوبے میں ہر قیمت پر عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں امن کا قیام اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ اس وقت حکومت، اداروں اور عوام کے درمیان بداعتمادی کی ایک گہری خلیج موجود ہے، جسے ختم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے بامعنی مذاکرات کی اشد ضرورت ہے۔ ملک میں پسند اور ناپسند کا ڈاکٹرائن ختم ہونا چاہیے۔ صوبے کا ایک اہم اور سنگین مسئلہ معدنیات کا ہے، اس لیے معدنی وسائل پر صوبے کا حقِ ملکیت تسلیم کیا جائے اور اس حوالے سے تمام معاملات شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائے جائیں۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکومت ہوش مندی کا مظاہرہ کرے اور کسی عالمی سازش کا حصہ نہ بنے۔ دونوں ممالک کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے







