خیبرپختونخوا میں مقیم غیرملکیوں کی ملک بدری کا آپریشن شروع

خیبرپختونخوا میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکی شہریوں کی نشاندہی اور ملک بدری کے لیے خصوصی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ کوہاٹ اور کرک میں کارروائیوں کے دوران تقریباً دو درجن افغان شہریوں کو حراست میں لے کر وطن واپسی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ادھر پاک افغان سرحد پر واقع طورخم بارڈر کو کشیدگی میں کمی کے بعد افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبے میں گورنر راج کے نفاذ اور 12 مخصوص اضلاع میں ایمرجنسی کے اعلان کے بعد یہ خصوصی آپریشن شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکی شہریوں اور افغان مہاجرین کو باعزت طریقے سے ان کے وطن واپس بھیجنا ہے۔س سلسلے میں خیبرپختونخوا کے 34 اضلاع کے شہری اور دیہی علاقوں میں مقیم افغان مہاجرین سمیت دیگر غیرقانونی غیرملکیوں کی نشاندہی اور واپسی کے عمل کی نگرانی کے لیے پشاور میں ایک کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جبکہ کارروائیوں کے لیے 120 خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ ان میں سے 50 ٹیمیں مارکیٹوں اور بازاروں، جبکہ 70 ٹیمیں رہائشی علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی نشاندہی کریں گی۔کوہاٹ کے مختلف شہری علاقوں بشمول کوتل ٹاؤن شپ اور ملزایریا میں کارروائیوں کے دوران 13 افغان شہریوں جبکہ کرک کی تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے علاقے ٹیری میں 10 افغان شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ بعدازاں انہیں وطن واپسی کے عمل کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed