جمعیت علما اسلام (جے یو آئی)کے مرکزی رہنما مفتی اسعد محمود نے کہا ہے کہ نہ دبائوجماعت کو جھکا سکتا ہے اور نہ مشکلات اس کے کارکنوں کے قدم روک سکتی ہیں، جے یو آئی نے اقتدار کی خاطر کبھی اپنے نظریے اور اصولوں کا سودا نہیں کیا۔پشاور میں فاٹا ڈیجیٹل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مفتی اسعد محمود نے کہا کہ پاکستان کو اقتدار کی نہیں بلکہ نظریے اور اصولوں کی سیاست کی ضرورت ہے۔ان کے بقول آج بھی نظریاتی سیاست کا پرچم مولانا فضل الرحمن نے سربلند رکھا ہوا ہے اور انہوں نے اقتدار میں شراکت کی پیشکش مسترد کرکے اصولی سیاست کا ثبوت دیا۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کی سیاست کسی کی خوشنودی کے لیے نہیں بلکہ نظریے اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے ہر دور میں پاکستان کے اسلامی تشخص اور آئین کے دفاع میں کردار ادا کیا، جبکہ جماعت کی جدوجہد انگریز دور کے خلاف تحریک سے لے کر پاکستان کے اسلامی آئین تک پھیلی ہوئی ہے۔مفتی اسعد محمود نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم، بلوچستان اور صوبائی خودمختاری کے حقوق کے معاملے پر جے یو آئی نے اصولی موقف اختیار کیا اور بلوچستان، فاٹا اور خیبرپختونخوا کے حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ان کے مطابق عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جماعت نے کابینہ سے واک آٹ بھی کیا، کیونکہ ان کی سیاست وزارتوں اور اقتدار کے بجائے آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔قبائلی عوام کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے جے یو آئی رہنما نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے جانی و مالی نقصانات کا 90 فیصد سے زائد بوجھ قبائلی عوام نے برداشت کیا۔ پاکستان کے لیے قبائلی عوام، نوجوانوں اور خواتین کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اور ان کی خدمات کا قومی سطح پر اعتراف ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی صرف قبائلی عوام ہی نہیں بلکہ ہر مظلوم طبقے کی آواز اور امید ہے،آپریشن کے نام پر قبائلی عوام کی عزت نفس مجروح کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔موجودہ سیاسی صورت حال پر بات کرتے ہوئے مفتی اسعد محمود نے کہا کہ ایک طرف گورنر راج کی باتیں کی جارہی ہیں اور دوسری جانب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی حکومت کو رکاوٹ قرار دیا جارہا ہے۔ان کے بقول اختیار کا اصل امتحان کمزور کے گھر کی دیواریں گرانا نہیں بلکہ عوام کو جواب دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں نظریاتی اور اصولی سیاست کو کمزور کیا جارہا ہے، جبکہ ملک کو زرد صحافت کا بھی سامنا ہے جہاں، ان کے الفاظ میں، قلم، زبان اور ایمان تک فروخت ہورہے ہیں۔سیاسی جماعتوں کو چیلنج کرتے ہوئے مفتی اسعد محمود نے کہا کہ تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں پشاور میں اپنی عوامی طاقت دکھائیں۔انہوں نے کہا کہ تمام جماعتیں متحد ہوکر پشاور میں اجتماع کریں، جبکہ جے یو آئی تنہا اپنا اجتماع کرے گی۔ ان کے مطابق عوامی طاقت کا فیصلہ بیانات اور سیاسی اتحادوں سے نہیں بلکہ میدانِ عمل میں ہوتا ہے۔مفتی اسعد محمود نے کہا کہ جے یو آئی کی کردار کشی اور اس کی سیاسی جدوجہد کو متنازع بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی







