ہم سپریم کورٹ کے فیصلو ںکے پابند نہیں’ وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں، تاہم قانونی اور آئینی اصولوں سے ہم آہنگ عدالتی نظائر سے رہنمائی لے سکتی ہے۔عدالت نے نظرثانی درخواستوں کے دائرہ اختیار اور ان کے طریقہ کار سے متعلق بھی اہم اصول وضع کردیے ہیں۔وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلوں کی اس عدالت کے لیے صرف قائل کرنے والی حیثیت ہے۔ اگر سپریم کورٹ کی کوئی قانونی نظیر آئین اور قانون سے ہم آہنگ ہو تو وفاقی آئینی عدالت اسے اختیار کرسکتی ہے۔فیصلے میں نظرثانی (ریویو)کے دائرہ اختیار کو انتہائی محدود اور مخصوص قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نظرثانی صرف ایسی غلطی یا کوتاہی تک محدود ہوگی جو عدالتی ریکارڈ سے واضح ہو یا جس کے نتیجے میں انصاف کا قتل عام ہوا ہو۔عدالت کے مطابق نظرثانی کی درخواست کسی مقدمے پر دوبارہ بحث یا اس کی ازسرنو سماعت کا موقع نہیں ہوتی، بلکہ اس کا مقصد ریکارڈ پر موجود واضح غلطی کا جائزہ لینا ہے۔ فیصلے میں معمول کے طور پر نظرثانی درخواستیں دائر کرنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فریقین اور وکلا صرف حقیقی اور جائز بنیاد موجود ہونے پر ایسی درخواستیں دائر کریں۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ فضول یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست دائر کرنے پر کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد کیے جاسکتے ہیں، جبکہ متعلقہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے خلاف تادیبی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔فیصلے کے مطابق نظرثانی درخواست دائر کرنے سے پہلے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ یا فریق کو وجوہات پر مبنی سرٹیفکیٹ دینا ہوگا۔ درخواست کی سماعت کے لیے 50 ہزار روپے بطور سیکیورٹی جمع کرانا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ اگر نظرثانی درخواست خارج ہوجائے یا اسے فضول اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا جائے تو جمع شدہ سیکیورٹی ضبط کی جاسکتی ہے۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ مناسب مقدمات میں نظرثانی درخواست کو زبانی سماعت کے بغیر سرکولیشن کے ذریعے نمٹایا جاسکتا ہے۔فیصلے میں آرٹیکل 175F(1)(c) کے تحت ہائیکورٹ کے آرٹیکل 199 کے فیصلے کے خلاف اپیل کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت سے لیو ٹو اپیل حاصل کرنا ضروری ہے۔ لیو ٹو اپیل کسی فریق کا خودکار حق نہیں، بلکہ اس کی منظوری کے بعد ہی درخواست اپیل کی حیثیت اختیار کرتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed