پشاور ہائیکورٹ نے موٹر سائیکل کاروبار میں سرمایہ کاری کے نام پر 526 افراد سے مبینہ طور پر 55 کروڑ 80 لاکھ روپے فراڈ کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے اسے جیل میں رکھنے کاحکم دیدیا۔نیب کی جانب سے ملزم کے قیمتی اثاثے منجمد کرنے کاعمل بھی جاری ہے۔ اپیل پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔سماعت کے دوران نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر حیات نے عدالت کو بتایا کہ ملزم فیضان اصغر ایک نجی موٹر سائیکل مارکیٹنگ کمپنی کا چیف ایگزیکٹو ہے اور اس پر الزام ہے کہ اس نے موٹر سائیکل کاروبار میں سرمایہ کاری کے نام پرمبینہ طور پر 526 افراد سے مجموعی طور پر 558 ملین روپے ہتھیائے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم کو اس سکینڈل میں نامزد ہونے کے تقریبا 7سال بعد گرفتار کیا گیا جبکہ اس کے خلاف احتساب عدالت میں ٹرائل زیر التواہے۔سپیشل پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم کے قیمتی اثاثے منجمد کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ مقدمے کی موجودہ صورتحال میں ملزم ضمانت کا حقدار نہیں ہے۔عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم فیضان کی ضمانت کی درخواست خارج کردی







