حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں کے حوالے سے مبینہ جعلی تعلیمی اسناد اور تجربہ سرٹیفکیٹس کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔دستیاب تحقیقاتی دستاویزات کے مطابق بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین نور ایمان اور دیگر متعلقہ عہدیداروں کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔دستاویزات کے مطابق ڈائریکٹر فنانس کی تعلیمی اسناد، اے سی سی اے سرٹیفکیٹ اور تجربے کے سرٹیفکیٹس، جبکہ ڈائریکٹر سپلائی چین اور چیف انٹرنل آڈیٹر کے تجربے کے سرٹیفکیٹس کی صداقت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔معلومات کے مطابق اگست 2026 میں اینٹی کرپشن کی انکوائری نمبر 29-2026 اور جنرل صلاح الدین کی سربراہی میں 24 ستمبر 2026 کو مکمل ہونے والی پالیسی بورڈ کی انکوائری میں بھی ان مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق نور ایمان کی نوشہرہ میڈیکل کمپلیکس میں سابقہ تعیناتی کے دوران بھی بعض متعلقہ افراد کے خلاف جعلی اسناد اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے۔مزید الزام ہے کہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد انہی افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا۔معاملے پر متعلقہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری رپورٹس کی روشنی میں شفاف تحقیقات کی جائیں، تعلیمی اسناد اور تجربے کے سرٹیفکیٹس کی تصدیق کرائی جائے اور بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔







