واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت کے لیے ایک خط ارسال کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ خط صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر بھیجا گیا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ ایران کے سخت گیر رہنماؤں سے بلاواسطہ بات چیت مثبت اور بہتر نتائج فراہم کر سکتی ہے۔
یہ سفارتی رابطہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مزید بمباری اور فوجی کارروائی کے اشارے دے چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے مشرق وسطیٰ کے خلیجی اتحاد کو کسی بھی ممکنہ محدود فوجی اقدام کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے اور خطے سے غیر ضروری عملے کی منتقلی سمیت اسرائیل کو دفاعی نظام کی فراہمی جیسے پیشگی تدابیر بھی اختیار کی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، تاہم وہ سفارت کاری کو کامیاب بنانے کا ایک اخری موقع فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تہران ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ امن کی تجاویز کو حتمی شکل دی جا سکے۔ تاہم ایرانی حکام نے متنبہ کیا ہے کہ امریکی پیش قدمی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔







