تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران نشترآباد چوک میں واقع شہری کی تین منزلہ عمارت مسمار کرنے کے معاملے پر ایڈیشنل سیشن جج الیاس احمد نے درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو متنازع عمارت گرانے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے عدالتی بیلف کو موقع کا معائنہ کرکے جائیداد کی پوزیشن اور حدود سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔تحریری حکم نامے کے مطابق درخواست احسان اللہ کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں کمشنر پشاور، ڈپٹی کمشنر پشاور سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار نے مقف اختیار کیا ہے کہ وہ نشترآباد چوک میں واقع تین منزلہ عمارت کا قانونی مالک اور قابض ہے، تاہم فریقین مبینہ طور پر کسی قانونی جواز، نوٹس اور شنوائی کا موقع دیے بغیر اس کی جائیداد اور اس پر قائم عمارت مسمار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ فریقین درخواست گزار کی جائیداد کی حدود کے اندر واقع عمارت کو مسمار کرنے یا اس میں کسی قسم کی مداخلت سے گریز کریں۔عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتی بیلف موقع پر جا کر فریقین کی موجودگی میں متنازع جائیداد کے مقام اور اردگرد کی حدود کا معائنہ کرے۔ بیلف جائیداد کی پوزیشن، مقام اور حدود کی نشاندہی کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروائے گا، تاکہ معاملے کے اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔عدالت نے درخواست پر مزید سماعت 6 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔







