نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے پشاور اور شانگلہ میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی لون ایپس کا نیٹ ورک بے نقاب کر دیا ہے اور ہزاروں شہریوں کو بلیک میلنگ کا نشانہ بنانے والے دو مرکزی ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایجنسی کے ترجمان کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 30 سے زائد لیپ ٹاپس، موبائل فونز، شہریوں کا حساس ڈیٹا، کال ڈیٹیل ریکارڈز (سی ڈی آرز) اور رابطہ نمبرز کا ریکارڈ برآمد کر کے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
ترجمان نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ملزمان گوگل پلے سٹور پر جعلی لون ایپس کے ذریعے شہریوں کو چھوٹے قرضوں کا جھانسہ دیتے تھے اور اس دوران صارفین کی کانٹیکٹ لسٹ اور گیلری تک رسائی حاصل کر لیتے تھے۔ بعد ازاں متاثرہ افراد، ان کے گھر والوں اور رشتہ داروں کو مسلسل کالز اور میسجز کے ذریعے ہراساں کر کے ان سے بھاری رقمیں بٹوری جاتی تھیں۔ واقعے کا مقدمہ پیکا ایکٹ 2016 کے تحت درج کر لیا گیا ہے اور برآمد شدہ الیکٹرانک ڈیوائسز کا تکنیکی تجزیہ جاری ہے، جبکہ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی نامعلوم لون ایپ کو انسٹال کرنے اور اپنی ذاتی معلوما ت تک رسائی دینے سے گریز کریں۔







