چین کے صوبے شانسی کے شہر شیان کی ایک عدالت نے دو پڑوسی خاندانوں کے درمیان دو سو سال سے زائد عرصے سے جاری زمین کی حد کے تنازع کا حتمی فیصلہ سنا دیا ہے۔ معاملہ اس وقت شدید ہوا جب ڈیوس نامی شہری نے اپنے باورچی خانے کی تزئین و آرائش کے دوران ایک نئی دیوار بنانے کی کوشش کی، جس پر اس کے پڑوسی زینگ نے اعتراض اٹھایا کہ اس سے ان کے مکان میں روشنی اور نکاسی آب کے نظام میں خلل پڑے گا۔ یہ معاملہ جلد ہی ہاتھا پائی اور زبردست تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔ پولیس اور مقامی کمیٹی کی درجنوں بار ثالثی کے دوران زینگ نے ۱۷۳۵ء سے ۱۷۹۶ء تک چین پر حکومت کرنے والے شہنشاہ چیان لونگ (Qianlong) کے دور کی جائیداد کی منتقلی کی تاریخی دستاویز پیش کر دی جس سے معلوم ہوا کہ دونوں خاندانوں کی متعدد نسلیں دو صدیوں سے اسی زمین پر لڑتی آ رہی ہیں۔ تاہم، عدالت نے ۱۷۸۱ء کی دستاویز پر مبنی حد بندی کے بجائے اس دور کے ایک مشہور عالم کے خط کی روشنی میں معاملے کا حل نکالا جس میں پڑوسیوں کے لیے تین تین فٹ زمین چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ حکام کی جانب سے گھروں کی متوازن پیمائش اور نئے پلان پر دونوں فریقین کے راضی ہونے سے ڈیوس کے کچن کی تعمیر مکمل ہوئی اور یہ صدیوں پرانا جھگڑا پرامن طور پر ختم ہو گیا۔







