پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ یوٹیوبرز کے اداروں کے خلاف بیانیے یا مشوروں کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز کو اب مشورے دینے سے روک دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کو 14 روز گزر جانے کے باوجود حکومت کا کوئی واضح وژن سامنے نہیں آ سکا ہے اور حکومتی نااہلی کی وجہ سے ملک اس وقت بند گلی میں کھڑا ہے۔شوکت یوسفزئی نے معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معیشت وینٹی لیٹر پر ہے اور ملک محض قرضوں کے سہارے چل رہا ہے، جبکہ عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے شدید پریشان ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی میں کسی قسم کا فارورڈ بلاک نہیں بن رہا اور تمام اراکین بیرسٹر گوہر کی قیادت میں متحد ہیں۔ پارٹی اس وقت مزاحمتی اور مفاہمتی سیاست کے درمیانی نقطے پر کھڑی ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل حکومت کے رویے کو مدنظر رکھ کر طے کیا جائے گا۔پی ٹی آئی رہنما نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ سابق قبائلی اضلاع کے انضمام کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے صوبے بھر میں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن پر تشویش جتاتے ہوئے خواتین سمیت تمام بے گناہ اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پشاور ہائیکورٹ ایمرجنسی اور گورنر راج کے آئینی تقاضوں سے متعلق معاملے پر جلد اہم فیصلہ دے گی۔







