رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا کے زیرِ اہتمام محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات، پشاور میں صوبے کی سرکاری و نجی جامعات کے وائس چانسلرز اور نمائندوں کے ساتھ ایک مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا مقصد جامعات کی جانب سے فراہم کی جانے والی عوامی خدمات کی نشاندہی، ان کی باقاعدہ نوٹیفکیشن اور مقررہ مدت میں فراہمی کے حوالے سے مشاورت کرنا تھا، تاکہ متعلقہ خدمات کو رائٹ ٹو پبلک سروسز ایکٹ 2014ء کے دائرہ کار میں لانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔چیف کمشنر آر ٹی ایس، محمد علی شاہزادہ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور انہیں آر ٹی ایس ایکٹ کے اہم نکات، کمیشن کے اغراض و مقاصد، اختیارات اور مستقبل کے اہداف کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کی خدمات کو آر ٹی ایس فریم ورک میں شامل کرنے سے طلبہ اور عام شہریوں کو سہولت فراہم کرنے، شفافیت و جوابدہی کو فروغ دینے اور خدمات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔اس موقع پر سپیشل سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم نے کمیشن کے ان اقدام کو سراہتے ہوئے اسے آگے بڑھانے کے لیے محکمہ کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور باہمی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔کمشنر آر ٹی ایس، شوکت علی یوسفزئی نے شرکاء کے سوالات اور تحفظات کے جوابات دیے اور جامعات کی خدمات کی نشاندہی، ان کی نوٹیفکیشن اور خدمات کی فراہمی کے لیے واضح مدت مقرر کرنے کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔ شرکاء نے اس اقدام کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور اپنی تجاویز پیش کیں۔یہ ورکشاپ خیبر پختونخوا میں آر ٹی ایس کمیشن اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان اقدام کا مقصد طلبہ اور شہریوں کو جامعات کی متعلقہ خدمات کے حصول میں سہولت فراہم کرنا اور قابلِ اطلاق قانونی تقاضوں کے مطابق خدمات کی شفاف اور بروقت فراہمی کو فروغ دینا ہے۔آر ٹی ایس کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں عوامی خدمات کی بہتری، ادارہ جاتی جوابدہی، شفافیت اور شہریوں میں آگاہی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔







