سانحہ دیر کالونی متاثرین کو شہدا پیکیج دیا جائے’درخواست دائر

پشاور ہائیکورٹ نے دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم، پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی، سیکرٹری ورکس اینڈ سروسز، سیکرٹری فنانس اور لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ اتھارٹی کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ واقعے میں جاں بحق ہونے والے طلبہ اور خاتون ٹیچر کے لواحقین کو شہدا پیکیج فراہم کیا جائے، جبکہ زخمی طلبہ کو مفت علاج معالجہ اور معاوضہ دیا جائے۔ وکیل نے واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے اور صوبے کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی عمارتوں کا اسٹرکچرل اور فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کی بھی اپیل کی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ متاثرہ اسکول کی عمارت منظور شدہ نقشوں اور حفاظتی معیار کے مطابق نہیں تھی، لہٰذا اسکول کی رجسٹریشن اور سیفٹی سرٹیفکیٹس کا مکمل ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ وکیل کے مطابق تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت میں غفلت آئین پاکستان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جس پر ذمہ دار انتظامیہ اور حکام کے خلاف سخت فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed