پاکستان کے جوہری سکیورٹی نظام کا آئی اے ای اے جائزہ مکمل

پاکستان کے جوہری اثاثوں اور تنصیبات کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی جائزہ مکمل ہوگیا ہے، جس کے بعد عالمی ماہرین نے پاکستان کے سکیورٹی نظام کو مضبوط قرار دیا ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ماہرین نے 12 روز تک جائزہ لینے کے بعد نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سفارشات بھی پیش کی ہیں۔

آئی اے ای اے کے مطابق انٹرنیشنل فزیکل پروٹیکشن ایڈوائزری سروس (آئی پی پی اے ایس) مشن نے پہلی مرتبہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کے تحفظ سے متعلق قانونی اور ضابطہ جاتی نظام کا جائزہ لیا۔ ماہرین نے متعلقہ ضوابط اور تنصیبات کی سطح پر اختیار کیے گئے متعدد اچھے طریقہ ہائے کار کی بھی نشاندہی کی۔

ایجنسی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان نے جوہری اثاثوں اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے مضبوط سکیورٹی نظام قائم کر رکھا ہے اور متعلقہ تنصیبات میں حفاظتی اقدامات پر مناسب طریقے سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں جوہری سکیورٹی کے نظام کو وقتاً فوقتاً جائزوں کے ذریعے بہتر بنایا جاتا ہے، جبکہ تربیت اور استعداد میں اضافے کے اقدامات قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر اس شعبے میں مہارت کے فروغ میں معاون ہیں۔

سات رکنی عالمی ٹیم کا دورہ

پاکستان کے پہلے آئی پی پی اے ایس مشن کی قیادت مراکش کی جوہری و تابکاری تحفظ اور سلامتی کی ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر جنرل خمار مرابٹ نے کی۔ سات رکنی ٹیم میں چین، رومانیہ، روس اور سلوواکیہ کے ماہرین کے علاوہ آئی اے ای اے کے دو اہلکار بھی شامل تھے۔

پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (پی این آر اے) نے حکومت کی درخواست پر اس مشن کی میزبانی کی۔ جائزے کے دوران ٹیم نے پی این آر اے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور دیگر متعلقہ قومی اداروں کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔

عالمی ماہرین نے کراچی نیوکلیئر پاور جنریٹنگ اسٹیشن کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کو مرحلہ وار بند کرنے کے منصوبے اور استعمال شدہ جوہری ایندھن کے ذخیرے کا جائزہ لیا۔

کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کا جائزہ

پاکستان کے پہلے ایٹمی بجلی گھر میں کینیڈین ساختہ ڈیوٹیریم یورینیم (کینڈو) ری ایکٹر نے 1971 میں کام شروع کیا تھا، جسے 2021 میں مستقل طور پر بند کردیا گیا۔ دورے کے دوران ماہرین نے پلانٹ کو مرحلہ وار بند کرنے کے جاری عمل اور استعمال شدہ جوہری ایندھن کے ذخیرے سے متعلق حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔

آئی اے ای اے حکام کا مؤقف

آئی اے ای اے کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اور شعبۂ جوہری تحفظ و سلامتی کی سربراہ کرین ہرویو نے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پہلا آئی پی پی اے ایس مشن کامیابی سے مکمل ہونا جوہری اثاثوں کے تحفظ سے متعلق ضابطہ جاتی اور عملی نظام کو مزید بہتر بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے جوہری سکیورٹی کے شعبے میں افرادی قوت کی تربیت کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا۔

پی این آر اے کے چیئرمین ضیا حسین شاہ نے کہا کہ مشن کی میزبانی پاکستان کے مضبوط جوہری سکیورٹی نظام کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار ہے۔ ان کے مطابق عالمی ماہرین کی سفارشات سے قانونی اور ضابطہ جاتی ڈھانچے، قومی سطح کے حفاظتی نظام اور تنصیبات میں سکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

جوہری تحفظ سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریاں

پاکستان جوہری مواد کے طبعی تحفظ سے متعلق کنونشن (سی پی پی این ایم) کا فریق ہے۔ ملک نے 2016 میں اس کنونشن میں 2005 کے دوران کی گئی ترمیم کی توثیق کی تھی۔ اس ترمیم کے تحت پرامن مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے جوہری مواد اور تنصیبات کے تحفظ سے متعلق ذمہ داریوں کو وسعت دی گئی، جس میں جوہری مواد کا اندرونِ ملک استعمال، ذخیرہ اور نقل و حمل بھی شامل ہے۔

آئی اے ای اے کا انٹرنیشنل فزیکل پروٹیکشن ایڈوائزری سروس پروگرام 1995 میں شروع کیا گیا تھا۔ پاکستان میں مکمل ہونے والا مشن اس پروگرام کے تحت دنیا بھر میں کیا جانے والا 112واں جائزہ تھا۔

اس پروگرام کے تحت بین الاقوامی ماہرین متعلقہ ممالک کے جوہری تحفظ کے نظام کا عالمی معیارات اور بہترین طریقہ ہائے کار کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں اور حفاظتی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سفارشات پیش کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed