پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں سرکاری ہیلی کاپٹر اور دیگر سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
درخواست کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس اعجاز خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزار رکن صوبائی اسمبلی ظاہر خان کی جانب سے بیرسٹر یاسین رضا عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پشاور ہائیکورٹ نے 23 اکتوبر 2025 کو اپنے فیصلے میں سیاسی اجتماعات، جلسوں اور جلوسوں کے دوران سرکاری وسائل کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔ فیصلے میں صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی تھی کہ سرکاری گاڑیوں، مشینری اور اہلکاروں کو احتجاج، لانگ مارچ یا کسی سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
وکیل کے مطابق 4 اکتوبر کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پشاور سے لکی مروت جانے کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیا اور وہاں سیاسی لانگ مارچ میں شرکت کی۔ گنڈی چوک لکی مروت میں وزیراعلیٰ کی آمد کے لیے خصوصی ہیلی پیڈ بھی تیار کیا گیا، جہاں سیاسی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کیا اور مارچ کا باقاعدہ آغاز کیا۔ ان کے مطابق اس موقع پر سرکاری ہیلی کاپٹر کے علاوہ پائلٹ، عملے، ایندھن، فنی عملے، حفاظتی اہلکاروں، انتظامی و پروٹوکول عملے سمیت دیگر سرکاری وسائل بھی استعمال ہوئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کی سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لانگ مارچ میں شرکت کی تصاویر اور ویڈیوز بھی موجود ہیں جبکہ یہ واقعہ قومی، علاقائی اور ڈیجیٹل میڈیا میں رپورٹ ہوا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں، اس لیے سیاسی سرگرمی کے لیے سرکاری وسائل کا مبینہ استعمال عدالتی حکم کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق سرکاری وسائل عوام کی ملکیت ہیں اور کسی سیاسی جماعت کی سرگرمیوں کے لیے ان کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ وکیل نے کہا کہ وزیراعلیٰ صوبے کے انتظامی سربراہ کی حیثیت سے ان وسائل کے نگران اور محافظ ہیں اور انہیں کسی مخصوص سیاسی جماعت کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعلیٰ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے، انہیں ذاتی حیثیت میں طلب کرکے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کی وجوہات، مقصد، اجازت اور اخراجات سے متعلق وضاحت طلب کی جائے۔
درخواست میں متعلقہ حکام کو ہیلی کاپٹر کے استعمال کی اجازت، پرواز کا ریکارڈ، لاگ بک اور اخراجات کی تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی۔
دلائل مکمل ہونے پر پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔







