صدر پیپلز لائرز فورم ۔خیبر پختونخوا اور ڈپٹی اٹارنی جنرل گوہر رحمان خٹک نے کہا ہے کہ گورنر صوبے میں وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے آئینی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے اور آئین کے آرٹیکلز 131، 139 اور 149 کے تحت گورنر کو سیکیورٹی سے متعلق اجلاس طلب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں جبکہ وزیر اعلی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لانگ مارچ میں شرکت کر رہے ہیں ۔انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہ کہا کہ اگر وزیر اعلی نے صوبے کو چھوڑ رکھا ہے تو کیا گورنر بھی صوبے کو چھوڑ دے؟ گورنر اپنی آئینی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج ایک آئینی اقدام ہے، کوئی ممنوعہ عمل نہیں، تاہم اس کا نفاذ آئینی تقاضوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت گورنر راج کے لیے تیار ہے تاہم پیپلز پارٹی اور صدرِ مملکت کا مقف ہے کہ فی الحال گورنر راج نافذ نہ کیا جائے۔ اگر صوبائی حکومت راہِ راست پر نہ آئی تو آخری حل گورنر راج ہی ہوگا۔انہوں نے تحریک انصاف کی جانب سے خیبرپختونخوا میں احتجاج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اپنی ہی حکومت والے صوبے میں احتجاج کرنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ کیسا لانگ مارچ ہے جو دوپہر کے وقت شروع ہوتا ہے، بازاروں میں رش کے دوران آگے بڑھتا ہے اور رات کے وقت، جب لوگ نہیں ہوتے، اگلے دن تک ملتوی کردیا جاتا ہے۔گوہر خٹک نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ لانگ مارچ کو طول دے کر اپنی جان چھڑوانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور عوام کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔







