آئینی عدالت نے قانونی شرائط کے بغیر پنشن دینے سے روک دیا

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ وفاقی محتسب پنشن کی قانونی شرائط کو نظرانداز کرتے ہوئے کسی شخص کو پنشن دینے کا حکم جاری نہیں کرسکتا۔

عدالت نے ای او بی آئی کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ جبکہ وفاقی محتسب اور صدر پاکستان کے احکامات بھی کالعدم قرار دے دیے۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی جانب سے تحریر کیے گئے 12 صفحات پر مشتمل حکم نامے میں کہا گیا کہ پنشن کی درخواست مسترد ہونا بذات خود بدانتظامی کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالت کے مطابق قانونی اہلیت سے متعلق تنازع کو محض بدانتظامی قرار دے کر محتسب کے دائرہ اختیار میں توسیع نہیں کی جاسکتی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پنشن کے حصول کے لیے عمومی طور پر کم از کم 15 سال کی شراکت ضروری ہے، تاہم درخواست گزار جاوید اقبال بھٹی کی بیمہ شدہ ملازمت 6 سال سے بھی کم عرصے پر مشتمل تھی۔

عدالت کے مطابق جاوید اقبال بھٹی یکم جولائی 2008 سے بیمہ شدہ تھے، اس لیے انہیں 5 سال کی خصوصی رعایت بھی حاصل نہیں تھی۔

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ پہلے ادا کی گئی 48 ہزار روپے کی اولڈ ایج گرانٹ سے پنشن کا حق پیدا نہیں ہوتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ فوائد کے حصول سے متعلق اہلیت کے تنازعات ای او بی آئی قانون میں طے کردہ طریقہ کار کے مطابق نمٹائے جائیں گے۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ دائرہ اختیار کے بغیر جاری کیا گیا حکم بعد میں ہونے والی توثیق سے قانونی حیثیت حاصل نہیں کرسکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed