پاکستان مسلم لیگ (ق)نے خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی، انتظامی اور امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کو سیاسی کشمکش کی نذر کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ تعلیمی سرگرمیوں، سرکاری اداروں اور معمولاتِ زندگی کا متاثر ہونا صوبے کے عوام اور بالخصوص نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے تشویشناک ہے۔مرکزی سیکرٹری اطلاعات غلام مصطفی ملک اور خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر انتخاب خان کے درمیان گفتگو میں کہا گیا کہ میٹرک کے امتحانات کا متاثر ہونا، سرکاری دفاتر اور دیگر اداروں کی کارکردگی میں رکاوٹیں اور مسلسل سیاسی کشیدگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صوبائی انتظامی نظام شدید دبا کا شکار ہے۔انتخاب خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا پہلے ہی امن و امان کے سنگین مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں صوبائی حکومت کو احتجاجی سیاست کے بجائے عوامی مسائل، تعلیم، صحت اور انتظامی امور پر توجہ دینی چاہیے۔ سیاسی سرگرمیوں کے باعث عام شہریوں اور طلبہ کو مشکلات میں ڈالنا کسی صورت مناسب نہیں۔غلام مصطفی ملک نے کہا کہ وفاقی حکومت اور متعلقہ آئینی اداروں کو صوبے کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے عوام کے جان و مال، تعلیم اور بنیادی ریاستی خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل طاقت یا محاذ آرائی نہیں بلکہ مذاکرات، آئین اور جمہوری عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔







