پشاور ہائیکورٹ نے شمالی پشاور رنگ روڈ کی تعمیر کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے کے کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے معاوضے کی شرح ۸ لاکھ روپے فی مرلہ سے کم کر کے ۴ لاکھ روپے فی مرلہ مقرر کر دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ زرعی اراضی کو ترقی یافتہ ٹاؤن شپ کی اراضی کے برابر قرار دے کر معاوضہ طے نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل پشاور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) اور اراضی مالکان کی جانب سے دائر اپیلوں پر سماعت کی۔ کیس کے مطابق، ۲۳ کنال اراضی کے لیے ۲۰۱۲ء کے ایوارڈ کے تحت معاوضہ ۸۲ ہزار ۳۸۰ روپے فی مرلہ طے ہوا تھا، جسے ریفرنس کورٹ نے ۲۰۲۲ء میں بڑھا کر ۸ لاکھ روپے فی مرلہ کر دیا تھا۔ اراضی مالکان نے اسے ۱۲ لاکھ روپے فی مرلہ کرنے کی استدعا کی تھی، جبکہ پی ڈی اے کے وکیل بیرسٹر اسد الملک نے موقف اختیار کیا کہ زرعی اراضی کا موازنہ پہلے سے تعمیر شدہ ٹاؤن شپ سے نہیں کیا جا سکتا اور معاوضے میں اضافہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت اور قیاس آرائی پر مبنی تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ معاوضے میں اضافے کو ثابت کرنے کی ذمہ داری اراضی مالکان پر تھی جو وہ نبھانے میں ناکام رہے۔ عدالت نے ریفرنس کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاوضہ ۴ لاکھ روپے فی مرلہ مقرر کر دیا۔ اراضی کے حصول کے مقدمات میں معاوضے میں کمی کا یہ فیصلہ ایک اہم عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔







