پشاور ہائیکورٹ نے ناقص تفتیش کے الزام میں پولیس انسپکٹر ہدایت اللہ کو ایڈیشنل سیشن جج پشاور کی جانب سے سنائی گئی ۱۰ سال قید کی سزا کالعدم قرار دے دی ہے۔ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی بھی ملزم کو اپنی صفائی اور مؤثر دفاع کا مناسب موقع نہ فراہم کرنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A میں دیے گئے منصفانہ ٹرائل (Fair Trial) کے بنیادی حق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پولیس افسر کی جانب سے دائر اپیل پر سماعت کی۔ ملزم کے وکیل شبیر حسین گیگیانی ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے ان کے موکل کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 193 کے تحت ۷ سال اور دفعہ 186 کے تحت ۳ سال قید کی سزا سنائی تھی، تاہم اس عمل کے دوران بنیادی قانونی اور آئینی تقاضوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔فاضل عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ٹرائل جج نے بیک وقت شکایت کنندہ، استغاثہ اور فیصلہ کنندہ کا کردار ادا کیا جو عدالتی غیر جانب داری کے اصولوں کے منافی ہے۔ عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 195 کے تحت طے شدہ قانونی طریقہ کار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزم کو اپنی مرضی کا وکیل مقرر کرنے اور قانون کے مطابق دوبارہ اپنا دفاع پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا جائے۔







