ریگی ملاکنڈھیر قبرستان میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے طالبعلم آفتاب اللہ کے قتل کو 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود پولیس تاحال قاتلوں اور قتل کی وجہ کا سراغ نہیں لگا سکی۔پولیس کے مطابق مقتول کے کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر)، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے مختلف پہلوں پر تفتیش جاری ہے۔پولیس کو مقتول کے بھائی رضوان اللہ ولد نصر اللہ ساکن ملاکنڈھیر نے رپورٹ درج کرائی تھی کہ اس کا 25 سالہ بھائی آفتاب اللہ موٹرسائیکل پر اسلامیہ کالج پشاور یونیورسٹی گیا تھا۔،واپسی پر ریگی قبرستان میں نامعلوم افراد نے اسے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق آفتاب اللہ کو متعدد گولیاں ماری گئیں، جن میں ایک گولی سر پر لگی، جس کے باعث وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ورثا کے مطابق مقتول کے پاس اس کی موٹرسائیکل اور موبائل فون بھی موجود تھے۔اہل خانہ کے مطابق آفتاب اللہ اردو ڈیپارٹمنٹ کے آخری سمسٹر کا طالبعلم تھا اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد افسر بننے کا خواہشمند تھا۔وہ ملازمت کے حصول کے لیے ایٹا کے ذریعے مختلف آسامیوں پر بھی درخواستیں دے رہا تھا۔ورثا کا کہنا ہے کہ آفتاب اللہ کے اچانک قتل سے والدین اور اہل خانہ شدید صدمے سے دوچار ہیں اور ان کے مستقبل سے متعلق تمام خواب ادھورے رہ گئے۔مقتول کے اہل خانہ نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قتل میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرکے واقعے کی وجوہات سامنے لائی جائیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ سی ڈی آر، سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جارہا ہے، جبکہ مختلف پہلوں سے تحقیقات جاری ہیں اور کیس کو جلد ٹریس کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔







