روس نے ایران کے لیے ایک ارب ڈالر قرض کی فراہم کے انتظامی مراحل مکمل کر لیے ہیں، تاہم رقم کے مصرف سے متعلق تہران میں حکومتی اداروں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے بتایا ہے کہ ادائیگی کے تمام قانونی اور مالی طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا چکی ہے اور رقم کی منتقلی کے لیے ایرانی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلا ت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
یہ رقم جون میں طے پانے والے ۲۰ ارب ڈالر کے وسیع تر روسی قرضے کی پہلی قسط ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایران کی پلاننگ اینڈ بجٹ آرگنائزیشن اس رقم کو گاڑیوں کی درآمد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے، جبکہ وزارت تیل اس فنڈ سے پیٹرولیم انڈسٹری کے آلات اور وزارت زراعت بنیادی اشیائے ضرورت کی درآمد کی خواہاں ہے۔
مختلف وزارتوں کے درمیان رقوم کی تخصیص پر اتفاق نہ ہونے کے باعث حکومت نے فی الحال رقم کی منتقلی کے لیے درکار بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات روسی حکام کے حوالے نہیں کی ہیں۔







