معافی نہ ملنے پر جنوبی کوریا کی یوکرین کو دھمکی

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے یوکرین سے جنگی قیدیوں کی منتقلی سے متعلق معاملہ عوامی سطح پر سامنے لانے پر باضابطہ معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ معافی نہ مانگنے کی صورت میں سیول مزید اقدامات کرے گا۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران انکشاف کیا کہ روس کے خلاف جنگ میں گرفتار کیے گئے شمالی کوریا کے دو جنگی قیدیوں کو جنوبی کوریا منتقل کیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کا مؤقف ہے کہ قیدیوں کی منتقلی کو خفیہ رکھنے پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق ہوا تھا اور یوکرین نے اس معاملے کو منظرعام پر لا کر مبینہ طور پر اس رازداری کی خلاف ورزی کی۔ یوکرین اس نوعیت کے کسی رازداری کے معاہدے کے وجود سے انکار کرتا ہے۔

صدر لی جے میونگ نے کہا کہ اگر یوکرین معاہدے کے وجود سے انکار اور سرکاری معافی سے انکار جاری رکھتا ہے تو جنوبی کوریا مزید اقدامات کرے گا۔ انہوں نے معاملے کو سفارت کاری، قومی سلامتی اور جزیرہ نما کوریا کے سکیورٹی ماحول پر اثر انداز ہونے والا حساس معاملہ قرار دیا۔

جنوبی کوریا نے یوکرینی بیانات پر بھی اعتراض کیا ہے جن میں شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کا ذکر کیا گیا تھا۔ صدر لی نے ایسے بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

دوسری جانب یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے تنازع کو سفارتی غلط فہمی قرار دیتے ہوئے اسے حل کرنے اور جنوبی کوریا کے ساتھ شراکت داری برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed