پاکستان مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے صدر اور کوآرڈینیٹر وفاقی حکومت برائے اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ انتحاب خان چمکنی نے خیبر پختونخوا میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ ایک انتہائی حساس اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے، مگر بدقسمتی سے صوبائی حکومت کی ترجیحات عوام کے جان و مال کے تحفظ اور حکمرانی کے بنیادی تقاضوں کے بجائے سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی سیاست بنتی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کسی سیاسی جماعت، حکومت یا گروہ کی سیاسی سرگرمیوں کا میدان نہیں بلکہ کروڑوں عوام کا صوبہ ہے۔ یہاں کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں اپنے گھر اجاڑے، کاروبار تباہ ہوتے دیکھے، نقل مکانی برداشت کی اور ہزاروں جانوں کی قربانیاں دیں۔ آج اگر دوبارہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور بدامنی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے تو اسے محض سیاسی بیان بازی یا ایک دوسرے پر الزام تراشی کے ذریعے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔انتخاب خان چمکنی نے کہا کہ حکومت کا اصل امتحان جلسہ، جلوس اور سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ عوام نے صوبائی حکومت کو مینڈیٹ اس لیے دیا ہے کہ وہ صوبے میں امن قائم کرے، پولیس اور انتظامیہ کو مثر بنائے، صحت و تعلیم کا نظام بہتر کرے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے اور شہریوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرے۔موجودہ حالات میں صوبائی حکومت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس کی ترجیح پختونخوا کے عوام ہیں یا اسلام آباد کی سیاسی محاذ آرائی۔ اگر صوبے میں دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہوں، پولیس اہلکار شہید ہورہے ہوں، شہری عدم تحفظ کا شکار ہوں اور دوسری جانب حکومت کی توجہ سیاسی احتجاج اور وفاق سے محاذ آرائی پر مرکوز ہو تو عوام سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ حکومت کی ترجیحات کیا ہیں۔انتخاب خان چمکنی نے کہا کہ احتجاج ہر شہری اور سیاسی جماعت کا آئینی و جمہوری حق ہے، لیکن حکومت میں بیٹھنے کے بعد احتجاجی سیاست اور حکومتی ذمہ داریوں کے درمیان فرق رکھنا بھی ضروری ہے۔ صوبائی حکومت کو احتجاج کی قیادت کرنے سے پہلے صوبے کے تھانوں، پولیس چوکیوں، اسپتالوں، اسکولوں، سڑکوں، کاروباری مراکز اور قبائلی اضلاع کی صورتحال کا جواب دینا ہوگا۔وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر دہشت گردی کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے پر سیاست کرنے کے بجائے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔ خیبر پختونخوا کے عوام کو وفاق اور صوبے کی باہمی لڑائی نہیں بلکہ امن چاہیے۔انتخاب خان چمکنی نے صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس سے متعلق مجوزہ قانون سازی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج جب خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر قربانیاں دے رہی ہے، ایسے وقت میں پولیس کے انتظامی اور پیشہ ورانہ نظام کو سیاسی تنازعات سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ حالیہ مجوزہ پولیس قانون کے حوالے سے یہ بحث سامنے آئی ہے کہ پولیس چیف کے انتظامی، مالی اور آپریشنل اختیارات کو صوبائی حکومت یا وزیراعلی کی منظوری سے مشروط کیا جائے گا؛ حکومت اسے اصلاحات قرار دیتی ہے جبکہ ناقدین اسے پولیس کی پیشہ ورانہ آزادی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ پولیس کو سیاسی دبا سے آزاد، وسائل سے لیس اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر مضبوط کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر پولیس کی توجہ دہشت گردی کے بجائے سیاسی کشمکش، احتجاج اور حکومتی و سیاسی ہدایات کے درمیان الجھ جائے گی تو اس کا براہ راست نقصان عام شہری کو ہوگا۔انتخاب خان چمکنی نے کہا کہ صوبائی حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش نہ کرے کہ ہر تنقید دراصل صوبے کے خلاف سازش ہے۔ حکومت سے سوال کرنا صوبے سے دشمنی نہیں، بلکہ عوامی حق ہے







