اسلام آباد: سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا، جبکہ دونوں فریقین نے کل دوبارہ مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اسپیکر چیمبر میں ہونے والی ملاقات میں اپوزیشن وفد کی قیادت علامہ راجا ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجا نے کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپوزیشن وفد کا استقبال کیا۔
حکومتی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، شیری رحمان، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور طلال چوہدری کے علاوہ اعجاز جاکھرانی، نوید قمر، رانا ثناء اللہ اور امیر مقام شامل تھے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کا آغاز ہوا ہے اور دونوں فریقین کی خواہش ہے کہ مذاکرات سے کوئی نتیجہ نکالا جائے۔
اپوزیشن کا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر اصرار
اپوزیشن رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا کہ مذاکرات میں انصاف اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت کے بغیر معاملات آگے بڑھنا مشکل ہے۔
اسد قیصر نے کہا کہ اپوزیشن بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرکے مذاکرات کا ایجنڈا طے کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنوں سے متعلق معاملہ بھی زیر بحث آئے گا، تاہم بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ان کے لیے سب سے اہم ہے۔
عامر ڈوگر نے کہا کہ وہ ابتدا ہی سے ملاقات اور مذاکرات کے حامی ہیں اور سیاسی معاملات کو محاذ آرائی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کسی ادارے کے ساتھ تصادم نہیں چاہتی۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے محمود اچکزئی کی ملاقات کا معاملہ بھی مذاکرات میں رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں اور مذاکرات کے لیے کچھ شرائط طے ہونا ضروری ہیں۔
مذاکرات کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومتی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ یا حملے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی ٹیم کا کہنا تھا کہ دھمکیوں اور اڈیالہ جیل پر حملے کی باتیں درست نہیں، جبکہ مذاکرات میں پیش رفت کے لیے دونوں جانب سے لچک کا مظاہرہ ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران تحریک انصاف اور حکومتی ٹیم کے درمیان کئی مرتبہ گرما گرمی بھی ہوئی، جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان زیادہ تر خاموش رہے۔
مذاکرات کے دوران عدالتی معاملات پر رانا ثناء اللہ اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ علامہ راجا ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی اور حکومتی اقدامات پر تنقید کی۔
رانا ثناء اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کرایا جائے گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے فریقین کو افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھنے اور مذاکرات کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا ہے اور دونوں فریقین نے کل دوپہر دوبارہ مذاکرات کے لیے بیٹھنے پر اتفاق کیا ہے۔







