ایڈیشنل سیشن ججIIصوابی کی عدالت نے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے محکمہ پولیس میں تعینات سینئر کلرک گوہر علی ولد شیر حسن سکنہ صوابی کو قتل عمد کا مجرم قرار دے کر عمر قید بامشقت اور مقتول کے قانونی ورثا کو 10لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔گوہر علی کے خلاف تھانہ صوابی میں ایف آئی آر نمبر 721مورخہ یکم اگست 2023ء کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 324، 337-I اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد مقدمہ ٹرائل کے لیے عدالت میں پیش کیا۔مقدمے کی تفتیش ایس پی انویسٹی گیشن صوابی شفیع الرحمن کی سربراہی میں انسپکٹر گل شیر اور انسپکٹر نمیر خان نے مکمل کی۔ عدالت نے دفعہ 302-B کے تحت زردار علی کے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے گوہر علی کو عمر قید بامشقت کی سزا سنائی۔عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 544-Aکے تحت مقتول کے قانونی ورثا کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ معاوضہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرم کو مزید 6 ماہ قید سادہ بھگتنا ہوگی، جبکہ معاوضے کی رقم اراضی کے محصول کے بقایا جات کی طرح وصول کی جائے گی۔پولیس کے مطابق مجرم گوہر علی محکمہ پولیس میں بطور سینئر کلرک تعینات تھا، تاہم قانون کی نظر میں کسی عہدے یا حیثیت کی کوئی رعایت نہیں







