جامعات میں انتظامی عہدوں پر اہل افسران کی تقرری کی جائے،پشاور ہائیکورٹ

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پشاور یونیورسٹی سمیت خیبرپختونخوا کی تمام سرکاری جامعات میں انتظامی امور قانون اور مقررہ طریقہ کار کے تحت چلانے اور تمام خالی انتظامی عہدوں پر صرف اہل انتظامی افسران کی تقرری یقینی بنانے سے متعلق دائر آئینی درخواست پر اہم تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل محمد آصف بابر ایڈووکیٹ نے عدالتِ عالیہ کے سامنے موقف اختیار کیا کہ پشاور یونیورسٹی اور دیگر پبلک یونیورسٹیز میں رجسٹرار، ڈپٹی رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات، ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن، ڈائریکٹر کیو ای سی اور ڈائریکٹر او آر آئی سی جیسی اہم انتظامی پوسٹوں پر یا تو اساتذہ (ٹیچنگ کیڈر) کو بٹھایا گیا ہے یا پھر اضافی چارج پر کام چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے دلائل دیے کہ یہ اقدام ‘خیبرپختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ ۲۰۱۲ء’ کے سیکشن 17A کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت ان نشستوں پر صرف پروفیشنل انتظامی افسران ہی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔جسٹس کامران حیات میاں خیل کے تحریر کردہ فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت، محکمہ اعلیٰ تعلیم (ایچ ای ڈی) اور تمام یونیورسٹیوں کے سربراہان کو سخت ہدایت کی ہے کہ انتظامی امور شفاف اور قانونی ضوابط کے تحت چلائے جائیں۔ فیصلے میں واضح ہدایت کی گئی ہے کہ اساتذہ یا غیر انتظامی عملے کو طویل عرصے یا غیر معینہ مدت کے لیے مستقل بنیادوں پر انتظامی عہدوں کا چارج دینے سے مکمل گریز کیا جائے۔ عدالت نے متعلقہ جامعات کو خالی انتظامی آسامیوں پر باقاعدہ اشتہار اور مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت فوری نئی بھرتیوں کا حکم دیتے ہوئے رٹ پٹیشن کو نمٹا دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed