گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہصدر پاکستان اور وزیراعظم نے اگر حکم دیا تو گورنرراج لگ سکتاہے، جو پاکستان کے آئین کو نہیں مانے گا، اس سے کوئی بات نہیں ہوگی، ہمیں پاکستان اور خیبرپختونخوا میں امن لانا ہے،صوبے کی ترقی کیلئے ہم سب مل کرکام کریں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ فیصل کریم کنڈی نے تحریک انصاف کو لانگ مارچ کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ نہیں کرسکتی، یہ ابھی اسلام آباد جانے سے چھپ رہے ہیں، جب میدان سجے گا تو پھر بات ہوگی۔گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ یہ صرف میڈیا پر بڑھکیں مارتے ہیں، یہ چھپنے کے لیے گرفتاریاں دے رہے ہیں، عوام ان کے ساتھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو کنٹرول کیا جائے، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نہیں چھوڑا جائے گا، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کو کنٹرول کرنا پی ٹی آئی کے بس کی بات نہیں۔ صوبے میں دہشتگردی ہورہی ہے،ہم لاشیں اٹھارہے ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کو صوبے کے حوالے سے تحفظات ہیں ۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ڈی آئی خان میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، دہشتگردی افغانستان سےآرہی ہے، پی ٹی آئی نے کبھی مذمت نہیں کی، ڈرون حملوں کے خلاف اسمبلی میں قراردادپیش ہوتی ہے، جوانوں کی شہادتوں کے خلاف کبھی قرارداد دیکھی؟۔ افغانستان بھارت اوراسرائیل کاسہولت کار بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی کیلیے ہم سب مل کرکام کریں گے، چیف منسٹراتناکمزورہے کہتا ہے میرے پاس اختیار نہیں،تو استعفی دینا چاہیے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آئین میں گورنر راج نافذ کرنے کا آپشن موجود ہے۔







