پشاور ہائیکورٹ نے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا کو صوبائی وزیر فضل شکور خان کے مبینہ اغوا کی تحقیقات کرانے اور ان کی بازیابی کا حکم دیدیا ۔جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل بینچ نے کیس کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا ۔دورکنی بینچ نے مغوی فضل شکور کے بھائی انوار عزیز کی رٹ پر سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیاہے کہ موٹر وے ٹول پلازہ کے قریب 21 ستمبر کو نامعلوم مسلح افرادصوبائی وزیر کواغواکرکے لے گئے تھے ۔ان کے وکلا نے بتایاکہ صوبائی وزیر فضل شکور کو موٹر وے کے انٹری/ایگزٹ پوائنٹ کے قریب پولیس کی موجودگی میں اغوا کیا گیا۔چمکنی پولیس نے نامعلوم افراد کیخلاف اغواکا مقدمہ درج کیا ہے ۔گزشتہ سماعت پر عدالت نے تفتیشی افسر کو طلب کیا تھاجنہوں نے بتایاکہ صوبائی وزیر کے ساتھ موجود دو افراد محفوظ طریقے سے گھر واپس پہنچ گئے اور انہوں نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت اپنے بیانات قلمبند کرا ئے ہیں۔تحریری حکم نامہ کے مطابق ان کے بیانات کے مطابق تقریبا 14 افراد نے انہیں اغوا کیا تاہم انہیں بعد میں چھوڑ دیا جبکہ صوبائی وزیرکا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ وکلا نے استدعا کی کہ پولیس سربراہ کو طلب کرکے واقعہ کی انکوائری اورصوبائی وزیرکی بازیابی یقینی بنائی جائے ۔عدالت نے پولیس حکام کو تحقیقات کرانے اور صوبائی وزیرکی بازیاب کیلئے اقدامات کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں







