اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ تنقیدی بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ارکانِ اسمبلی کو حاصل پارلیمانی استحقاق کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ طویل عرصے سے مسلمہ پارلیمانی روایات اور قومی و صوبائی قوانین کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر داخلہ منتخب عوامی نمائندے ہوتے تو انہیں پارلیمانی نظام کے ان بنیادی اصولوں اور قوانین کا علم ہوتا۔اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے وضاحت کی کہ کسی فوجداری الزام میں رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسپیکر سے پیشگی اجازت کا قانون مقننہ کی آزادی برقرار رکھنے اور انتظامیہ یا پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو سیاسی دباؤ میں لانے سے روکنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پارلیمانی استحقاق کسی بھی رکن کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے اور ہر رکن کو قانون کے مطابق تفتیش اور عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ اسپیکر کا کردار صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ گرفتاری سیاسی انتقام یا اسمبلی کارروائی میں رکاوٹ کے لیے نہ ہو۔بابر سلیم سواتی نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور وزیر داخلہ کے موقف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا نقاب پوش افراد کا بغیر وارنٹ منتخب نمائندوں کے گھروں پر چھاپے مارنا اور ۲۶ ویں آئینی ترمیم یا قوانین کی منظوری کے لیے اراکین کو ہراسانی و فلور کراسنگ پر مجبور کرنا جمہوریت ہے؟ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے حکومت اور اپوزیشن کے اتفاقِ رائے سے قانون منظور کیا ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کے پی میں ایم پی اے کی گرفتاری کے لیے اسپیکر کی پیشگی اجازت کے مراسلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے قانون کی برابری کے منافی قرار دیا تھا۔







