وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے میں توسیع یا ایران کو اس میں شامل کرنے کی فی الحال کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔ نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت مکہ معاہدے کا سیکریٹریٹ اور ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کیا جا رہا ہے۔ معاہدے کا ڈھانچہ مکمل ہونے کے بعد اگر کسی نئے ملک کی شمولیت کی خواہش سامنے آتی ہے تو تینوں رکن حکومتیں اس پر غور کرسکتی ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ فی الحال ایران کی مکہ معاہدے میں شمولیت کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں اور نہ ہی معاہدے میں توسیع کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہوا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت کسی بھی عالمی فورم پر بھارت کو بے نقاب کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر مناسب عالمی فورم پر اپنا موقف پیش کرتا رہے گا۔امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے وزیر دفاع نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے سے خطے میں امن کے قیام میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر بھی معاشی استحکام کی راہ ہموار ہونے کی امید ہے۔خواجہ آصف کے مطابق خطے میں امن اور معاشی استحکام کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا کامیاب ہونا اہم ہے۔







