پاکستان مسلم لیگ (ن)ضلع نوشہرہ نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے حالیہ دور خیبرپختونخوا کے دوران پارٹی کی صوبائی، ضلعی اور مقامی تنظیموں کو مبینہ طور پر نظرانداز کئے جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے تنظیمی کارکنوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔ ضلعی جنرل سیکرٹری مسلم لیگ (ن)نوشہرہ مشیت الرحمن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عطا اللہ تارڑ گزشتہ دنوں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں متعدد پروگراموں میں شریک ہوئے، تاہم ان پروگراموں میں مسلم لیگ (ن)کی آئینی صوبائی و ضلعی تنظیموں اور باقاعدہ عہدیداران کی مثر نمائندگی نظر نہ آنا ایک سنجیدہ تنظیمی سوال ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پارٹی میں باقاعدہ صوبائی اور ضلعی تنظیمیں موجود ہیں تو انہیں اعتماد میں لیے بغیر پروگرام منعقد کرنے کا اختیار کس تنظیمی اصول اور ضابطے کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے۔ مشیت الرحمن نے سوشل میڈیا کارکنوں کو نظرانداز کیے جانے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو کارکن مشکل حالات میں مسلم لیگ (ن) قائد نواز شریف اور پارٹی کے بیانئے کے دفاع کیلئے سوشل میڈیا پر فعال کردار ادا کر رہے ہیں، انہیں پارٹی سرگرمیوں اور فیصلوں میں اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے صوبائی سوشل میڈیا ہیڈ میاں عالمگیر شاہ، یوتھ میڈیا ٹیم کی صدر افشاں حسین اور ان کی تنظیمی ٹیموں کو اعتماد میں لئے بغیر سوشل میڈیا سے متعلق فیصلوں پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے سرٹیفکیٹس کی تقسیم کے معاملے میں بھی شفاف طریقہ کار اپنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کیلئے خدمات انجام دینے والے کارکنوں کا ریکارڈ سامنے رکھا جائے اور سرٹیفکیٹس یا کسی بھی اعزاز کے لیے واضح اور تنظیمی معیار مقرر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ محض ذاتی سفارش، تعلق یا مخصوص افراد کی تشہیر کی بنیاد پر حقیقی کارکنوں کو نظرانداز کرنا ان کیلئے باعث تشویش ہے۔ مسلم لیگ (ن)خیبرپختونخوا کے کارکن مشکل حالات میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور انہیں تنظیمی معاملات میں مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔ مشیت الرحمن نے کہا کہ پختون روایات کے مطابق مہمان کا احترام کیا جاتا ہے اور عطا اللہ تارڑ کے حالیہ دورے کے دوران بھی کارکنوں نے اسی روایت کو ملحوظِ خاطر رکھا، تاہم کارکنوں کی خاموشی کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ (ن)کا کوئی بھی پروگرام صوبائی اور متعلقہ ضلعی تنظیم کو اعتماد میں لیے بغیر منعقد نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تنظیمی کارکنوں کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو کارکن اپنے آئینی، جمہوری اور پرامن احتجاج کے حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے تحفظات ریکارڈ کرائیں گے۔







