پشاور کے گورنر ہاؤس میں عالمی یومِ جمہوریت و امن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا میں امن کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں بدامنی عروج پر ہے، سیکیورٹی فورسز، پولیس کے جوان، افسران اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں۔ ایک طرف
ہم شہداء کے جنازے اٹھا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب صوبائی حکومت اسلام آباد پر چڑھائی کی باتیں کر رہی ہے۔
گورنر نے کہا کہ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ پہلے اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے، اسلام آباد پر چڑھائی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج سب کا آئینی حق ہے لیکن اگر احتجاج سے پہلے ہی چڑھائی کی نیت ظاہر کی جائے تو یہ خطرناک صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو سزا عدلیہ نے دی ہے، رہائی بھی عدالتوں سے ہی ممکن ہے، احتجاج سے نہیں
۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ فاٹا انضمام کے وقت ضم اضلاع کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے اور این ایف سی ایوارڈ میں بھی صوبے سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آئیں مل کر صوبے کا مقدمہ وفاق کے سامنے رکھتے ہیں۔
تقریب میں سابق ڈپٹی اسپیکر کرامت اللہ خان چغرمٹی، اراکین صوبائی اسمبلی مہرسلطانہ، اشبر جدون، ہلال احمر خیبرپختونخوا کے چیئرمین فرزند علی وزیر، پیپلز پارٹی کے رہنما ابرار سعید سواتی، مصباح الدین، ڈاکٹر جانباز آفریدی اور سید ایوب شاہ ایڈوکیٹ نے شرکت کی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی 38 ویں سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔







