شانگلہ ٹیکنیکل کالج کا اضافی حصہ یونیورسٹی کے حوالے کرنے کی تجویز مسترد

شانگلہ میں ٹیکنیکل کالج کا اضافی حصہ یونیورسٹی کے حوالے کرنے کی تجویز مسترد کردی گئی، تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش،شانگلہ کے نوجوانوں کو ہنرمند بنانا وقت کی اہم ضرورت، روزگار کی کمی کے باعث لوگ کوئلے کی کانوں میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور، روزانہ جنازے واپس آتے ہیں، یونیورسٹی اور ٹیکنیکل کالج کو الگ الگ مقامات پر برقرار رکھا جائے، فنی تعلیم کے ادارے کو ختم کرنے کی کسی سازش کو قبول نہیں کریں گے، تعلیمی و عوامی حلقے۔ شانگلہ میں گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج الپوری کے اضافی حصے کو یونیورسٹی آف شانگلہ کے حوالے کرنے کی تجویز پر تعلیمی و عوامی حلقوں میں شدید تشویش اور ناراضگی پائی جاتی ہے۔ تعلیمی حلقوں نے اس اقدام کو ضلع میں فنی تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کی کوششوں کیلئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی آف شانگلہ اور گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج الپوری کو اپنی اپنی موجودہ جگہوں پر برقرار رکھا جائے اور کسی ایک ادارے کی ضروریات پوری کرنے کیلئے دوسرے تعلیمی ادارے کے مستقبل کو دا پر نہ لگایا جائے۔تعلیمی و عوامی حلقوں کا کہنا ہیں کہ شانگلہ میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں جسکے باعث یہاں کے نوجوان بڑی تعداد میں روزگار کی تلاش میں کوئلے کی کانوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے شانگلہ کے محنت کش آئے روز حادثات کا شکار ہوکر جانیں گنوا رہے ہیں اور کئی گھروں کے چراغ گل ہو رہے ہیں روزانہ کی بنیاد پر کان کنی کے حادثات میں جاں بحق ہونے والے محنت کشوں کی میتیں شانگلہ پہنچنے ہیں جس سے کئی خاندان معاشی بدحالی اور کرب کا شکار ہیں۔ان حلقوں کے مطابق اگر نوجوانوں کو اپنے ہی ضلع میں معیاری فنی اور تکنیکی تعلیم کے مواقع میسر ہوں اور انہیں مختلف شعبوں میں ہنرمند بنایا جائے تو وہ کوئلے کی کانوں جیسے خطرناک پیشوں پر انحصار کم کرکے دیگر شعبوں میں روزگار حاصل کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ ایسے حالات میں گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج الپوری جیسے ادارے کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ ادارہ نوجوانوں کو عملی مہارتیں فراہم کرکے ان کیلئے روزگار کے نئے راستے کھول سکتا ہے۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہیں کہ صوبائی حکومت نے طویل عرصے کے بعد شانگلہ میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کے فروغ کیلئے عملی قدم اٹھاتے ہوئے گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج الپوری شروع کیا تھا۔ اب جبکہ یہ ادارہ فعال ہوچکا ہے اور فنی تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھنے لگا ہے ایسے وقت میں اس کے اضافی حصے کو یونیورسٹی کے حوالے کرنے کی تجویز نے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہیں کہ شانگلہ جیسے پسماندہ اور روزگار کے محدود مواقع رکھنے والے ضلع میں فنی تعلیم کے ادارے کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ اس کی جگہ یا مستقبل کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف شانگلہ اعلی تعلیم کے فروغ کیلئے ایک اہم ادارہ ہے اور اس کی ترقی و توسیع بھی ضروری ہے تاہم یونیورسٹی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج الپوری کی جگہ یا اضافی حصے کو مختص کرنا مستقل حل نہیں ہوسکتا۔ یونیورسٹی کو اپنی جگہ پر رہنا چاہیے اور ٹیکنیکل کالج کو اس کیلئے مختص جگہ پر برقرار رکھا جائے تاکہ دونوں ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرتے ہوئے ضلع کے نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر کے مواقع فراہم کرسکیں۔تعلیمی و عوامی حلقوں نے واضح کیا کہ گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج الپوری کو ختم کرنے، اس کی جگہ محدود کرنے یا اس کے مستقبل کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے بقول شانگلہ کے نوجوانوں کو یونیورسٹی کی ڈگری کے ساتھ ساتھ عملی ہنر کی بھی اشد ضرورت ہے کیونکہ صرف ڈگریاں حاصل کرنا اس وقت تک کافی نہیں جب تک نوجوانوں کیلئے روزگار کے قابل عمل مواقع پیدا نہ کیے جائیں۔انھوں نے صوبائی حکومت، محکمہ اعلی تعلیم، محکمہ فنی تعلیم اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج الپوری کی موجودہ حیثیت، جگہ اور تعلیمی سرگرمیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے جبکہ یونیورسٹی آف شانگلہ کی توسیع کیلئے متبادل انتظامات کیے جائیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکنیکل کالج کے وجود یا اس کی جگہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی کیونکہ شانگلہ کے نوجوانوں کو ہنرمند بنانا محض تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ ان کے محفوظ مستقبل، روزگار اور معاشی خودمختاری کا بنیادی تقاضا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed