ایم ٹی آئی نظام سے قبل بھرتی ملازمین کنٹریکٹ پر نہیں’ ہائیکورٹ

پشاور ہائیکورٹ نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال سمیت دیگر ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے نان فیکلٹی ملازمین کی ملازمت کا تحفظ کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جو ملازمین پرانے قانون کے تحت بھرتی ہوئے اور 2006 کی ترمیم کے بعد مستقل ہوئے، انہیں صرف بورڈ آف گورنرز کے فیصلے، انتظامی حکم یا تنخواہوں کے نئے نظام کے ذریعے دوبارہ کنٹریکٹ ملازمین قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ان ملازمین کی موجودہ تنخواہوں، پے اسٹرکچر اور وہ مالی فوائد بھی برقرار رہیں گے جو قانون کے تحت انہیں حاصل ہیں۔پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل بنچ نے سید نور علی شاہ، نعمان خٹک اور دیگر نان فیکلٹی ملازمین کی جانب سے خالد رحمان ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر رٹ درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ فیصلہ جسٹس کامران حیات میاں خیل نے تحریر کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ وہ قانون کے مطابق مستقل ملازمین ہیں اور ان کی ملازمت کی حیثیت یا مالی حقوق صرف بورڈ آف گورنرز کے فیصلے یا کسی انتظامی حکم کے ذریعے ختم یا کم نہیں کیے جا سکتے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ریفارمز ایکٹ 2015 کی دفعہ 16-A آئین سے متصادم نہیں، تاہم اس دفعہ کو استعمال کرتے ہوئے ایسے ملازمین کے قانونی حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے جو پرانے نظام کے تحت بھرتی ہوئے، 2006 کی ترمیم کے ذریعے مستقل ہوئے اور بعد میں ایم ٹی آئی نظام کا حصہ بن گئے۔عدالت نے قرار دیا کہ بورڈ آف گورنرز کو ہسپتال کے معاملات چلانے، سروس رولز اور تنخواہوں کے نظام میں تبدیلی کرنے اور نئی پالیسیاں بنانے کا اختیار حاصل ہے، لیکن یہ اختیار قانون اور آئین کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔ صرف کسی نئی پالیسی، دفتری حکم، تنخواہی نظام یا بورڈ کے فیصلے کی بنیاد پر مستقل ملازمین کو کنٹریکٹ ملازمین میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ ہسپتال انتظامیہ نیا یا تبدیل شدہ تنخواہی نظام نافذ کر سکتی ہے، تاہم اس سے درخواست گزاروں کے پہلے سے محفوظ مالی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ انہیں ایسے کسی مالی فائدے سے محروم نہیں کیا جا سکتا جس کے وہ قانون کے تحت حقدار ہیں۔فیصلے میں بورڈ آف گورنرز کے 7 اپریل 2021 کو ہونے والے 31ویں اجلاس میں منظور کیے گئے ایجنڈا آئٹم نمبر 5 کو اس حد تک قانونی قرار دیا گیا جہاں تک اس کا تعلق تنخواہی نظام میں جائز نظرثانی اور تنظیم نو سے ہے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اگر اس فیصلے، دفتری حکم یا اس کے تحت کیے گئے کسی اقدام کے نتیجے میں مستقل ملازمین کو محض کنٹریکٹ ملازمین قرار دیا جاتا ہے یا ان کے محفوظ مالی فوائد کم کیے جاتے ہیں تو ایسی کارروائی قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتی۔عدالت نے متعلقہ ہسپتالوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کی ملازمت کی حیثیت یا ان کے محفوظ تنخواہی پیکیج اور مالی فوائد میں کوئی منفی تبدیلی نہ کی جائے۔ ایسی کوئی بھی تبدیلی صرف اسی صورت کی جا سکتی ہے جب اس کی واضح اجازت آئین اور ایم ٹی آئی ایکٹ کی متعلقہ دفعات میں موجود ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed